Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اعلان!!! نئی پیکنگ نیا نام فارمولہ،تاثیر اور شفاءیابی وہی پرانی۔ -- اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- تسبیح خانہ لاہور میں ہر ماہ بعد نماز فجر اسم اعظم کا دم اور آٹھ روحانی پیکیج، حلقہ کشف المحجوب، خدمت والو ں کا مذاکرہ، مراقبہ اور شفائیہ دُعا ہوتی ہے۔ روح اور روحانیت میں کمال پانے والے ضرور شامل ہوں۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

مردانہ ہارمون کے مختلف اثرات (ڈاکٹر احمر گل، پشاور)

ماہنامہ عبقری - ستمبر 2009ء

مردانہ جنسی و جسمانی توانائی کے سلسلے میں مردانہ ہارمون ٹیسٹو سٹیرون کا بڑا شہرہ ہے۔ یہ ہارمون مردانہ انداز حیات و خصوصیات کا اصل ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔ اسی کے بل پر مرد چیلنجوں کا سامنا کرتا ہے‘ دوڑتا ‘ بھاگتا اور دوسروں پر چھا جانے کی کوشش کرتا ہے۔ جسم میں اس کی مقدار صحیح ہو تو اس کی مردانہ صلاحیت بنی رہتی ہے اور جن مردوں میں اس کی کمی ہوتی ہے ان کی یہ صلاحیت اور کارکردگی درست نہیں ہوتی۔ ٹیسٹو سٹیرون خصیوں میں تیار ہوتا ہے اور 15 سے 30 سال کی عمر میں اس کی تیاری عروج پر رہتی ہے۔ مردانہ جسم میں یہ کئی سرگرمیوں اور تبدیلیوں کا سبب قرار دیا جاتا ہے مثلاً اس کی وجہ سے دماغی کارکردگی اور ارتکازِ ذہن کی صلاحیت بڑھتی ہے اور یادداشت کی بہتری بھی اس کا نتیجہ قرار دی جاتی ہے۔ جنسی خواہش مستحکم رہتی ہے‘ آواز بھاری ہوتی ہے اور بلوغت کا عمل تیزی سے مکمل ہوتا ہے۔ مختلف مقامات پر بال اُگتے ‘ بڑھتے ہیں۔ عضلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ جسم میں چربی کم ہوتی ہے۔ مردانہ اعضاءصحیح طور پر نمو پاتے ہیں اور ہڈیاں ٹھیک طور پر بڑھتی اور موٹی ہوتی ہیں۔ اس کی ان صلاحیتوں کی دریافت کے بعدسے اس کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے اوراب اسے جسم میں بذریعہ انجکشن داخل کرنے کا طریقہ زیادہ عام ہے۔ اندازہ یہ ہے کہ 40 لاکھ امریکیوں کے جسم میں اس کی سطح کم ہے جس کیلئے ان کی اکثریت ایک یا تین ہفتوں کے بعد خود انجکشن لگا کر اس کی کمی پوری کرتی ہے لیکن اس کی وجہ سے جسم میں کئی اہم تبدیلیاں بھی رونما ہوتی ہیں۔ مثلاً توانائی میں یکا یک اضافہ ہو جاتا ہے۔ جذباتی اور جسمانی لحاظ سے وہ عدم اعتدال کے شکار رہتے ہیں۔ ابتدائی دنوں میں جنسی توانائی سر چڑھ کر بولتی ہے اور پھر بعد میں تھکن اور پستی انہیں آگھیرتی ہے۔ اس کا نسبتاً بہتر علاج ٹیسٹو سٹیرون کی چپکنے والی پٹیوں کی صورت میں برآمد ہوا۔ چپکنے کے بعد یہ ہارمون یکساں رفتار سے جسم میں جذب ہوتا رہتا ہے لیکن مختلف وجوہ سے یہ طریقہ کچھ زیادہ مقبول نہیں ہوا‘ اس لئے اب مریضوں کی سہولت کیلئے اس کا مرہم تیار کیا گیا ہے جو ” ٹیسٹو سٹیرون جیل“ کہلاتا ہے۔ اسے دن میں صرف ایک دفعہ جسم میں جذب کرنا کافی ہوگا اور اس طرح جسم میں اس کی سطح برقرار رہ سکتی ہے چونکہ 30سال کی عمر کے بعد اس کی تیاری کا عمل سست پڑنے لگتا ہے لہٰذا اس جیل کے استعمال سے یہ کمی پوری کی جا سکتی ہے۔ اس ہارمون کی وجہ سے جسم میں عضلات خوب بنتے ہیں لیکن اس کی زیادتی کی وجہ سے جگر کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے اور آگے چل کر اس سے مثانے کے غدود کا سرطان بھی لاحق ہو سکتا ہے۔ ان امکانات اور اس کے نقصانات وغیرہ امریکہ میں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ ویسے اس سے واقع ہونے والی حیاتیاتی تبدیلیاں بہت اہم اور حقیقی ہیں۔ امریکہ کے ایک رسالے کے سابق مدیر 36 سالہ اینڈریو سیلی وان کا یہ انکشاف کچھ کم حیران کن نہیں ہے کہ دو سال کے عرصے میں انہوں نے اس ہارمون کے ذریعے سے اپنے عضلاتی گوشت میں 9 کلو گرام اضافہ کر لیا ہے۔ وہ ہر دو ہفتے بعد اس کا ٹیکا لگاتے ہیں اور اس کی وجہ سے خود کو ترو تازہ ‘ زیادہ توانا‘ پُر اعتماد‘ زیادہ جھگڑالو اور جنسی اعتبار سے بہت قوی محسوس کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف خواتین میں چونکہ اس ہارمون کی سطح کم رہتی ہے اس لئے وہ مردوں کی مذکورہ خصوصیات سے محروم رہتی ہیں۔ خواتین میں یہ ہارمون اینڈرینل گلینڈ اور بیضہ دانیوں (اووریز) میں بنتا ہے۔ مرد کے جسم میں یہ زیادہ تیار ہوتا ہے یعنی پلازما کے فی ڈیسی لیٹر میں 260 سے 1000 نینو گرام جب کہ خواتین میں یہ مقدار 15 سے 70 ہوتی ہے لیکن اس معاملے میں سب مرد یکساں نہیں ہوتے۔ بعض کے بدن میں یہ ہارمون زیادہ جذب و شامل ہوتا ہے اور بعض میں کم۔ اس کے باوجود ایک اوسط مرد کی جنسی تحریک اور قوت کے لئے یہ کم مقدار میں بھی کافی ہوتا ہے۔ ایک صحت مند انسان میں اس کی مقدار سب سے زیادہ صبح 8 بجے اور رات سونے سے پہلے نصف رہتی ہے۔ ٹیسٹو سٹیرون ہی جنین کو لڑکا بناتا ہے۔ استقرارِ حمل کے ابتدائی ہفتوں میں تمام جنین بے جنس ہوتے ہیں۔ اس کے بعد مرد کا کروموسوم وائی( Y) جنین میں مختلف قسم کے پیچیدہ اشاروں کا سبب بن کر ٹیسٹو سٹیرون میں اضافے کا ذریعہ بن جاتا ہے اور مردانہ عضو اور خصیوں کی تشکیل کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور پھر خود اس لڑکے میں بلوغت کا آغاز اسی ہارمون کا نتیجہ ہوتا ہے۔ لڑکوں کے خون میں اس کی مقدار بڑھ کر 2000 نینو گرام تک پہنچ جاتی ہے۔ غیر محتاط استعمال اس ہارمون کے غیر محتاط استعمال کا ایک امکان ان لوگوں میں زیادہ ہوتا ہے جو ورزش کے ذریعے سے اپنے عضلات میں اضافے کیلئے اس کا استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے مذکورہ ٹیسٹو سٹیرون جیل کے چوری چھپے خرید و فروخت کا خطرہ بھی ہے۔ اس کی کثرت سے کیل ،مہاسے ہی زیادہ نہیں نکلتے بلکہ نو عمری کے اس زمانے میں اس کی ہڈیوں کی بڑھوتری بھی رک سکتی ہے۔ بوڑھوں میں اس کے استعمال سے ضروری نہیں کہ وہ مثانے کے غدود کے سرطان میں مبتلا ہو جائیں لیکن یہ بات ضرور طے ہے کہ ایسے افراد میں کسی بھی قسم کی رسولی اس ہارمون کی وجہ سے سرطان کا روپ دھار سکتی ہے۔ اس کا استعمال ان لوگوں میں بھی زیادہ ہو سکتا ہے جو بڑی عمر میں اولاد کے خواہش مند ہوں۔ بعض محققین مردانہ سن یاس کے سلسلے میں بھی مصروفِ تحقیق ہیں۔ بڑی عمر میں جسمانی تبدیلیوں کے علاوہ تھکن‘ پستی اور جنسی توانائی میں کمی رونما ہوتی ہے اور انہیں ٹیسٹو سٹیرون کی سطح میں کمی ہی کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ جب کہ بعض محققین کے مطابق یہ تبدیلیاں خون کی روانی میں کمی اور نفسیاتی و سماجی تبدیلیوں کا نتیجہ بھی ہوتی ہیں۔ اس لئے 50 سال کی عمر میں آنے والی ان تبدیلیوں کو محض ٹیسٹو سٹیرون کی کمی قرار دینا درست نہیں۔ دیکھا یہ جاتا ہے کہ جو لوگ ادھیڑ عمر میں بھی جوانی کی عمر کا وزن برقرار رکھتے ہیں ان میں اس ہارمون کی سطح کم نہیں ہوتی البتہ معیار سے زیادہ وزنی ہونے والے افراد میں یہ ہارمون کم ہو جاتا ہے۔ انسانوں اور حیوانوں پر ہونے والے تجربات سے بھی ثابت ہوا ہے کہ ٹیسٹو سٹیرون کے استعمال سے ان کے مزاج میں غصہ بڑھ جاتا ہے۔اسی طرح ایک تجربے میں دواﺅں کے ذریعے سے مردوں میں اس کی سطح کم کرنے کی وجہ سے ان کی مردانہ صلاحیت میں کمی آ گئی لیکن محض 20 فیصد ٹیسٹو سٹیرون دینے سے یہ توانائی بحال ہو گئی۔ ایک مطالعے سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ٹیسٹو سٹیرون کی زیادہ سطح والے افراد زیادہ تشدد پسند ہوتے ہیں‘ دوسروں پر چھا جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کھیلوں کے مقابلے میں جن کھلاڑیو ں میں اس ہارمون کی سطح زیادہ رہتی ہے وہ بالعموم زیادہ انعامات حاصل کرتے ہیں۔ ویسے اس میں تربیت و مہارت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے برخلاف ایک محقق کا مو ¿قف ہے کہ جسم میں اس کی کمی سے لوگ زیادہ تشدد پسند ہو جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی اضافی خوراک دی گئی تو ان کا غصہ اور تشدد کم ہو گیا اور وہ خود کو بہتر محسوس کرنے لگے۔ اس ہارمون کے استعمال سے سماجی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں‘ بڑھی ہوئی جنسی بھوک کئی مسائل کو جنم دے گی۔ مغرب میں خاندان کا ادارہ ویسے ہی تباہی کے کنارے آ لگا ہے‘ بے وقت کی جوانی کی ترنگ اور مزاجوں کی برہمی سے اس اہم انسانی ادارے کو ناقابلِ تلافی نقصانات پہنچ سکتے ہیں۔ حرص و ہوس کا یہ لپکا مفید کم اور مضر زیادہ ثابت ہو سکتا ہے۔
Ubqari Magazine Rated 5 / 5 based on 989 reviews.