Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اعلان!!! نئی پیکنگ نیا نام فارمولہ،تاثیر اور شفاءیابی وہی پرانی۔ -- اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- تسبیح خانہ لاہور میں ہر ماہ بعد نماز فجر اسم اعظم کا دم اور آٹھ روحانی پیکیج، حلقہ کشف المحجوب، خدمت والو ں کا مذاکرہ، مراقبہ اور شفائیہ دُعا ہوتی ہے۔ روح اور روحانیت میں کمال پانے والے ضرور شامل ہوں۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

آئیے!مربہ جات سے جان بنائیں

ماہنامہ عبقری - ستمبر 2018ء

قدیم زمانے سے مربہ جات نہ صرف ہماری غذا کا ایک حصہ رہے ہیں بلکہ انہیں مختلف بیماریوں کا علاج کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مربہ جات مقوی معدہ و دل ہونے کے ساتھ ہی ہمارے جسم میں خون کی کمی کو بھی پورا کرتے ہیں، بالوں کو مضبوطی ملتی ہے، معدے اور جگر کے افعال میں بہتری پیدا کرتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ چہرے پر رونق لاتے ہیں جس کے سبب انسان ہشاش بشاش محسوس ہوتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ مربہ جات ہمیں بازار سے خریدنا پڑتے ہیں جو سربند ڈبوں میں بھی دستیاب ہوتے ہیں اور کھلے بھی مل جاتے ہیں مگر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ کھلے مربہ جات کے مقابلے میں سربند حالت میں ان کی قیمتیں کہیں زیادہ ہوتی ہیں جس کے سبب لوگ انہیں خریدنے سے گریز کرتے ہیں۔ کھلی حالت میں ملنے والی چیزوں کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں مختلف تحفظات ہوتے ہیں کہ نہ جانے ان کی تیاری کس طرح عمل میں آئی ہوگی، صحت و صفائی کا خیال رکھا گیا ہوگا یا نہیں اور اسی نوعیت کے بعض دوسرے شکوک و شبہات جبکہ کھلی حالت میں فروخت ہونے والے مربہ جات پر مکھیوں کی یلغار اور فضا میں موجود دھول اور گرد کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، یقینی سی بات ہے کہ یہ سوالات ذہن میں اٹھنے کے بعد ہم ایسی مصنوعات کو خریدنے سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں لیکن مربہ جات کی اہمیت اور افادیت تو بہرحال اپنی جگہ ہے لہٰذا ایسی صورتحال میں کیا کریں؟اس بارے میں اس قدر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مختلف باتوں پر لگے ہوئے سوالیہ نشان ہم یہ کہتے ہوئے ہٹائے دیتے ہیں کہ آپ مربہ جات موسم کی مناسبت سے خود بھی تیار کرسکتے ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ یہ مربہ جات صحت و صفائی کے لحاظ سے بھی قابل قبول ہوں گے جن کو سالہا سال تک محفوظ رکھ کر ضرورت کے وقت استعمال کیا جاسکے گا۔
مربہ جات صرف برصغیر پاک و ہند میں ہی نہیں ساری دنیا میں تیار کئے جاتے ہیں خصوصاً چین، جاپان اور تائیوان جیسے ممالک میں پھلوں اور سبزیوں کو محفوظ کرنے کا یہ طریقہ عام ہے۔ ہمارے یہاں مربہ جات کی تیاری اور فروخت کا بیڑا حکیموں نے برسوں سے اُٹھایا ہوا ہے مگر بعض لوگ جو اس فن سے واقف ہیں وہ اپنے طور پر بھی کھلی مارکیٹ میں مربہ جات کی فروخت کا کام کرتے ہیں۔ مربہ جات عموماً پوری طرح پکے یا نیم پکے ہوئے پھلوں سے بنائے جاتے ہیں۔ ان پھلوں کو سالم یا بڑے ٹکڑوں میں کاٹ کر شیرے میں پکایا جاتا ہے جو کہ برسوں کے لئے محفوظ ہو جاتے ہیں لیکن ان کی مسلسل دیکھ بھال بھی کرنا پڑتی ہے ورنہ پھپھوند لگ جانے کی صورت میں ساری محنت اکارت چلی جاتی ہے۔ مربہ یوں تو کسی بھی پھل کا بنایا جاسکتا ہے لیکن اس حوالے سے جو پھل یا سبزیاں خصوصی طور پر استعمال کی جاتی ہیں ان میں سیب، گاجر، آملہ، آم، ہرڑ اور کھجور کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ مربہ بنانے کا طریقہ بڑا سادہ اور آسان ہے جس میں بہت کم اجزائے ترکیبی استعمال ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کو سیب کا مرتبہ تیار کرنا ہے تو اس کے لئے ہم یہاں اس کی ترکیب بتائے دیتے ہیں۔سیب کا مربہ تیار کرنے کیلئے اجزاء:۔ سیب ایک کلو، چینی ایک کلو، پانی 400 گرام، سٹرک ایسڈ دو گرام، سوڈیم بینزوائٹ ایک گرام۔ترکیب: سیبوں کو پانی سے اچھی طرح دھوکر ان کا چھلکا اُتار دیں اور مناسب سائز کے ٹکڑے کاٹ لیں۔ اگر پھل میں کوئی حصہ خراب ہوتو اسے بھی کاٹ کر علیحدہ کردیں۔ اب ٹکڑوں کو نمک ملے محلول میں کچھ دیر رکھنے کے بعد ململ کے کپڑے میں دھیلا سا باندھ کر اُبلتے ہوئے پانی میں تین سے چار منٹ تک اُبال لیں۔ ان نرم کئے ہوئے ٹکڑوں کو کپڑے سے نکال کر کسی صاف اور خشک کپڑے پر پھیلادیں تاکہ نمی جذب ہو جائے۔ اب سیب کے ٹکڑوں کو اسٹین لیس اسٹیل کے کانٹے سے گودلیں تاکہ مربہ تیار کرتے وقت شیرہ ان میں اچھی طرح جذب ہو جائے۔ اجزائے ترکیبی کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے پانی میں سٹرک ایسڈ اور نصف چینی ملاکر آگ پر پکائیں، جب چینی اچھی طرح حل ہو جائے تو اس شیرے کو چھان لیں تاکہ چینی کی کثافتیں دور ہو جائیں۔ اس شیرے کو دوبارہ آگ پر پکائیں اور جب گاڑھا ہو جائے تو اس میں سیب کے اُبالے ہوئے ٹکڑے ڈال کر دو منٹ تک پکانے کے بعد اُتارلیں۔ دوسرے دن سیب کے ٹکڑوں کو شیرے سے نکال کر بقیہ چینی بھی شیرے میں ڈالیں اور جب تار بننے لگے تو سیب کے ٹکڑے اس میں دو سے تین منٹ تک پکانے کے بعد آگ سے اتارلیں۔ اس تیار شدہ مربے سے تھوڑا سا شیرہ لے کر اس میں سوڈیم بینزوائٹ حل کرکے سارے شیرے میں ملادیں اور ٹھنڈا ہونے پر مرتبان میں بھرکر رکھ دیں۔
کم و بیش اسی طریقہ کار کے تحت آم، گاجر، آملہ، ہڑ ر اور کھجور کا مربہ بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔ بس یہ بات ذہن میں رکھیں کہ پھل اور چینی کا وزن یکساں ہونا چاہئے یعنی ایک کلو پھل کے لئے ایک کلو چینی درکار ہوگی۔ آم کے مربے میں سٹرک ایسڈ کا استعمال نہیں ہوگا جبکہ دیگر تمام مربہ جات بالکل اسی طرح تیار کئے جاسکتے ہیں جیسے کہ سیب کا مربہ بنایا گیا ہے۔ یاد رہےکہ کسی بھی قسم کا مربہ بناتے وقت دھات کے برتن استعمال نہ کریں بلکہ اسٹین لیس اسٹیل کے برتنوں میں بنائیں۔ مربہ نکالتے وقت ہاتھ یا گیلا چمچ مرتبان میں نہ ڈالیں کیونکہ اس طرح پھپوندلگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ جن مرتبانوں میں مربہ رکھا جائے ان کو ڈھکن سمیت پانچ منٹ تک کھولتے ہوئے پانی میں رکھنے کے بعد نکال کر اچھی طرح خشک کرلیا جائے تو مربہ کئی برس تک ٹھیک رہے گا اور آپ جاتی رتوں کا مزہ لیتی رہیں گے!

Ubqari Magazine Rated 3.5 / 5 based on 895 reviews.