Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- تسبیح خانہ لاہور میں ہر ماہ بعد نماز فجر اسم اعظم کا دم اور آٹھ روحانی پیکیج، حلقہ کشف المحجوب، خدمت والو ں کا مذاکرہ، مراقبہ اور شفائیہ دُعا ہوتی ہے۔ روح اور روحانیت میں کمال پانے والے ضرور شامل ہوں۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

ازل و ابد کا مالک حقیقی ۔ ہفتہ وار درس سے اقتباس

ماہنامہ عبقری - اگست 2014ء

 

 

شیخ الوظائف حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی

 

ازل و ابد کا مالک حقیقی:میرے محترم دوستو ! اللہ جل شانہٗ ازل سے ہے اورابد تک رہے گا۔اس سارے عالم کا وجود نہیں تھا بس ہمارا رب تھا ،اور اس سارے عالم کا وجود نہیں ہوگامگر ہمارا رب ہوگا ۔اللہ پاک کی صفات میں ایک صفت یہ بھی ہے کہ اللہ ہمیشہ سے تھا اور اللہ کی صفات میں ایک صفت یہ بھی ہے کہ اللہ ہمیشہ ہوگا۔ ساری کائنات کو فناء ہے صرف اللہ جل شانہٗ کی ذات عالی کو بقاء ہے ۔جو کچھ ہمیں نظر آرہاہے یہ سارے کا سارا دھوکا ہے ۔یہ صرف تخلیق ہے خالق حقیقی کی۔معیشت انسان کو رب سے دور کرتی ہے۔ ایک اللہ والے فرماتے ہیں یہ جو بھینسوں کا کام ہے،یہ فتنہ ہے۔ ان سے عرض کی گئی کہ حضرت۔۔۔! آپ نے اسے فتنہ فرمایا کیسے؟انھوں نے فرمایا:کہ بھینس کا اصول یہ ہے کہ میری طرح ہوجاپھر دودھ دوںگی، بھینس کا حاصل دودھ ہے اور بھینس کی مجبوری گوشت ہے،یعنی جب بوڑھی ہوگئی تواس کو قصائی کو دے دیا کیونکہ حاصل تو دودھ ہے۔بھینس والے کے نہ کپڑے پاک ،نہ جسم پاک ،کیونکہ بھینس کے معاملات اسے فرصت نہیں دیتے۔
فتنہ کیا ہے؟:’’ہر وہ چیز جواللہ اور اس کے رسول ﷺ سے دور کردے وہ چیز فتنہ ہے ۔‘‘اور ہر وہ چیز جس کوا گرچہ لوگ  فتنہ کہیں ،ہماری طبیعت اسے فتنہ مانے ،ہمارا اندازاسے فتنہ سمجھے لیکن وہ چیزہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺکے قریب کردے تووہ فتنہ نہیںہے۔بلکہ ہمارے سمجھنے میں غلطی ہے اور پھر غوروفکر کی بات یہ ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے؟ اگر حقیقت کی سمجھ آئی توٹھیک ورنہ یہ ضروری نہیں کہ ہمیںہر چیز کی حقیقت سمجھ بھی آجائے ،کیونکہ ہماری عقل بھی محدودہے اور سمجھ بھی محدودہے ۔اگر کسی مشین کاچھوٹاسا پرزہ خراب ہوجائے تو اس مشین کو ٹھیک کرنے کیلئے اس کے ماہرکاریگر کے پاس لے جاتے ہیں ۔مگرانسان کے دل کا اتنا بڑا پرزہ خراب ہوجائے تو انسان اپنے دل کے پرزے کوخود اپنی مرضی سے اور اپنے طریقے سے پرکھنے کی کوشش کرے ،کسی روحانی مرشد کے پاس نہ جائے ،یا جائے تو اس کے طریقہ پر نہ چلے تو اس صورت حال سے سوائے بدگمانی اور وسوسے کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔
 اعتماد و اعتقاد کا چھن جانا:شیطان کاایک اصول یہ بھی ہے کہ جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی انسان روحانیت کی دنیا میں آگے بڑھ رہا ہے اورترقی کررہاہے ، چونکہ وہ پرانا تجربہ کار ہے اسی لیے اپنے تجربہ کی روشنی میں سب سے پہلے اعتماداور اعتقاد کی تارکو کاٹتاہے ۔۔۔! اعتماد اور اعتقادکی تار پر چھری پھیرتاہے ۔۔۔!اورجب اندر سے اعتماد اور اعتقاد کی تارکٹتی ہے تو پھر شیطان بدگمانی اور بے راہ روی پر لگا کر نیکی کی توفیق چھنوادیتاہے ۔
تسبیح خانے میں آنے کا اولین مقصد:اکثر لوگوں کا مشاہدہ ہے کہ جب بھی کوئی اپنے مرشد اور شیخ کے بارے میں بدگمانی کرتاہے تو جہاںا س پرسے روحانی فیض ختم ہوتا ہے وہاں اس سے نیکی کرنے کی توفیق بھی چھن جاتی ہے۔ خطاؤں، گناہوںکی طرف اس کے دل و دماغ مائل ہوجاتے ہیں۔
 شیطان ایساکیوں چاہے گاکہ انسان نیکی کی طرف لگا رہے۔۔۔!اس نے تو اللہ سے وعدہ کیا ہواہے کہ وہ نوع انسانی کوضرور گمراہ کرے گا۔پھر شان کریمی دیکھیں، نافرمانی کرکے اللہ پاک سے مہلت بھی مانگی۔۔۔!اس کو مہلت بھی مل گئی ،اس نے عمرلمبی مانگی ۔۔۔! اللہ نے عمر بھی لمبی دے دی ،اس نے اختیار بھی مانگا مخلوق خدا کے دل تک پہنچنے کا ۔۔۔!اللہ نے وہ بھی دے دیا۔ اور اللہ پاک نے فرمایاـ:’’ ہر وہ شخص جو توبہ کرے گا میں سدا اس کے انتظا ر میں رہوں گا۔‘‘کائنات کا مالک ہمہ وقت موجود ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔تسبیح خانہ میں آنے کا مقصد صرف اور صرف مالک حقیقی کی تلاش وجستجو ہے ۔
مرشد،مرید اور اعتماد:ہمارے حضرت سید ی و مرشدی حضرت خواجہ سید محمد عبداللہ ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک دفعہ ایک دیوانہ آیا۔ وہ بیچارہ مجذوب تھا ۔ہر شخص کے علاج کا طریقہ کار ہوتاہے ،ہر کسی کو ایک ہی طرح کاعلاج ،ایک ہی طرح کا انجکشن ،ایک ہی طرح کی گولی تونہیں دی جاتی ۔۔۔!یہ تومعالج کو پتاہوتاہے کہ اس مریض کو کیا دوا دینی ہے، اسکو دوا کی آدھی چمچ دینی ہے یاپوری چمچ دینی ہے۔۔۔۔!اس کو آدھی گولی دینی ہے یا پوری گولی دینی ہے۔۔۔! اس کو دو اکی صورت میں کھٹی گولی دینی ہیں۔۔۔!اس کو کس چیز کا انجکشن اور کتنی مقدار کا لگانا ہے ۔
اسی طرح جب کوئی اپنے آپ کو کسی فقیر کے حوالے کردیتاہے پھر وہ اس کو جیسے چاہے چلائے وہ چلتاہے ۔اور پھر اگر اس سے نفع کی امید یں نظر آرہی ہیں بظاہرتونفع نظر نہیں آرہالیکن اس کو روحانیت مل رہی ہے ۔اس کا تعلق باللہ مضبوط ہورہاہے تو پھریہ اسکی خوش نصیبی ہے کہ سودا نفع والا ہوگیا ۔
حضرت مرشدی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے اس مجذوب سے فرمایا:ایسا کر وبازارجا ئو اوروہاں جا کر رب کو تلاش کرو۔۔۔!اب آپ کے اور ہمارے ذہن میں تو یہی ہے ناںکہ اللہ کے نزدیک دنیا میں سب سے بدترین جگہ بازارہے اورسب سے بہترین جگہ مسجد ہے۔ یہ تو اُلٹ ہواناں ۔۔۔۔!حالانکہ اصول تو یہ ہے کہ دیدار کیلئے آنکھیں کھولنی پڑتی ہیں اور یہاںتو آنکھیں بند کرنے کیلئے کہا جارہا ہے۔ لیکن جو اعتماد کی راہوں پرچلتاہے تو وہ یہی کہتاہے کہ وہ گناہوں کی جوخزاں تھی، وہ نا فرمانیوں کی جو خزاںتھی، اور اللہ سے تعلق کی دوری کی جوخزاں تھی، کیونکہ نیکی کا نام بہار ہے اورخطا ء اور نافرمانی کا نام خزاں ہے۔ اس خزا ںکے سارے رخ بدل گئے اس لیے کہ : ’’تیرا ہاتھ ہاتھ میں آگیا تو چراغ راہ کے بھی جل گئے ‘‘  وہ چراغِ راہ جواکثر بجھ جاتے تھے وہ بھی جل گئے ۔ (جاری ہے)۔

Ubqari Magazine Rated 5 / 5 based on 940 reviews.