Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اعلان!!! نئی پیکنگ نیا نام فارمولہ،تاثیر اور شفاءیابی وہی پرانی۔ -- اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- تسبیح خانہ لاہور میں ہر ماہ بعد نماز فجر اسم اعظم کا دم اور آٹھ روحانی پیکیج، حلقہ کشف المحجوب، خدمت والو ں کا مذاکرہ، مراقبہ اور شفائیہ دُعا ہوتی ہے۔ روح اور روحانیت میں کمال پانے والے ضرور شامل ہوں۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

مالٹا! اہتمام سے کھائیے‘ صحت و تندرستی میں اضافہ کیجئے

ماہنامہ عبقری - فروری 2014ء

وٹامن سی کا سب سے بہترین خزانہ مالٹے کی شکل میں موجود ہے۔مالٹا مزاج کے لحاظ سے سرد تر ہے۔ اس کا رنگ پختہ حالت میں سرخی مائل زرد ہوتا ہے۔ اس کا ذائقہ قدرے شیریں اور ترش ہوتا ہے۔ اس کی مقدار خوراک دو سے چھ دانہ ہے

کینو‘ فروٹر‘ گریپ فروٹ‘ سنگترہ‘ مسمی‘ لیموں اور مالٹوں کا خزانہ پاکستان کے گلی کوچوں‘ ریڑھیوں‘ ٹھیلوں اور دکانوں پر جگمگا رہا ہے۔ سنہری رنگ کے یہ پھل فائدے اور صحت بخشی کے اعتبار سے وٹامن سی کا خزانہ ہیں۔ جب تک یہ دستیاب ہیں انہیں رغبت اور اہتمام سے کھائیے اور اپنی صحت و تندرستی میں اضافہ کیجئے۔
یہ سٹرس فروٹ دیگر صحت بخش اجزاء کے علاوہ سب سے زیادہ وٹامن سی فراہم کرتے ہیں۔ ان کی لذیذ وصحت بخش ترشی وٹامن سی یا الیہکوربک ایسڈ کہلائی ہے۔ جسم میں اس کی کمی قسم قسم کی تکالیف کا سبب بن جاتی ہے۔ یوں تو یہ وٹامن تقریباً تمام تازہ غذاؤں میں موجود ہوتا ہے۔ لیکن ٹماٹر کا رس‘ گوبھی‘ ہری مرچ اور کھٹے پھل‘ لیموں‘ سنگترے‘ کینو‘ مالٹے وغیرہ اس کے سب سے اہم ذرائع ہیں۔ وٹامن سی کی کمی کی وجہ سے مسوڑھے کمزور ہوجاتے ہیں۔ ان سے خون رسنے لگتا ہے اور زخم بن جاتے ہیں۔ ان زخموں میں جراثیم کی وجہ سے پیپ پڑجاتی ہے۔ یہی مرض پائیوریا کہلاتا ہے۔ پائیوریا کی وجہ سےمسوڑھے مسلسل کمزور ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ دانت اپنی جگہ چھوڑ کر گرنے لگتے ہیں۔ وٹامن سی کا سب سے بہترین خزانہ مالٹے کی شکل میں موجود ہے۔مالٹا مزاج کے لحاظ سے سرد تر ہے۔ اس کا رنگ پختہ حالت میں سرخی مائل زرد ہوتا ہے۔ اس کا ذائقہ قدرے شیریں اور ترش ہوتا ہے۔ اس کی مقدار خوراک دو سے چھ دانہ ہے۔مالٹا کے فوائد: مالٹا مفرح اور خوش ذائقہ پھل ہے۔ ٭ یہ ہاضم ہوتا ہے مگر اسے کھاتے وقت کالی مرچ اور نمک کا اضافہ کرنے سے اس کا ذائقہ مزے دار ہوجاتا ہے۔ ٭ خون پیدا کرتا ہے۔ ٭ بلڈپریشر کو مفید ہوتا ہے۔ ٭ بدہضمی کو دور کرتا ہے۔ ٭ جگر کی خرابی‘ طحال اور تلی کے بڑھنے کی بیماری میں مالٹے کا استعمال انتہائی سودمند ہے۔ ٭ نزلہ‘ زکام اور کھانسی میں مالٹے کا استعمال نقصان دیتا ہے۔ ٭ جگر کی گرمی کو دور کرتا ہے۔ ٭ یہ پیاس بجھاتا ہے۔ ٭ طبیعت کو صاف کرتا ہے اور طاقت بخشتا ہے۔٭ سرخ مالٹافوائد کےاعتبار سے عام مالٹے سے زیادہ مفید ہوتے ہیں۔اس میں وٹامن سی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ خون کی حرارت کو کم کرتا ہے۔ ٭پھوڑے‘  پھنسیوں میں مالٹے کا رس بغیر نمک مرچ پینا مفید ہوتا ہے۔ ٭ امراض بلغمی میں مالٹے کا استعمال نقصان دہ ہے۔ مثلاً دمہ وغیرہ۔ ٭ یرقان اور بخار میں اس کا استعمال مفید ہوتا ہے۔ ٭ یہ پھل پندرہ بیس روز تک پڑا رہنے سے خراب نہیں ہوتا۔ ٭ اس کا چھلکا چہرے کا رنگ نکھارنے میں مفید ہوتا ہے۔ اس کا طریقہ یوں ہے کہ مالٹے کے چھلکے کے اندرونی سفید حصے کو صاف کرکے رگڑ لیں اور تیل سرسوں ملا کر رات کے وقت چہرے پر لیپ کرکے سوجائیں‘ صبح سویرے اٹھ کر کسی اچھے صابن سے منہ دھولیں۔ صرف چھ دن کے استعمال سے چہرے کے تمام داغ‘ دھبے اور چھائیاں دور ہوجائیں گے۔ ٭ مالٹے کے چھلکے کے صرف زردی والے حصے کو ہی اگر رات سونے سے قبل چہرے پر مل لیا جائے اور یہ عمل کوئی پانچ منٹ تک جاری رہے تو مذکورہ بالا فائدہ چند ہی روز کے استعمال سے ہوجاتا ہے۔ ٭ اگر ہاتھ اور پاؤں کے تلوے جلتے ہوں یعنی ان سے گرمی نکلتی محسوس ہوتی ہو تو چھ عدد مالٹے رات کو چھیل کر ان پر نمک اور کالی مرچ لگا کر اوس میں رکھیں اور صبح نہار منہ کھانے سے یہ مرض دور ہوجاتا ہے۔
نومولود بچے ماں کے پیٹ سے اپنے جسم میں کافی وٹامن سی لے کر اس دنیا میں آتے ہیں۔ ماں کا دودھ پینے کی صورت میں بھی انہیں درکار مقدار مل سکتی ہے‘ بشرطیکہ خود ماں کی غذا میں یہ وٹامن سی موجود ہو۔ چند دنوں کے بعد البتہ انہیں اس وٹامن کی مزید مقدار درکار ہوتی ہے‘ اس لیے انہیں مالٹے‘ کینو یا سنترے کا خالص رس پلانا چاہیے۔ اس رس میں چینی وغیرہ شامل کرنا مناسب نہیں۔سٹرس فروٹ لیموں‘ کینو‘ فروٹر‘ مالٹے‘ مسمی‘ گریپ فروٹ اور سنگترہ اس وٹامن کا اہم ذریعہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جن سنہرے سٹرس فروٹ سے نوازا ہے ان کے استعمال سے ہم اپنی صحت ‘ تندرستی میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ اس موسم میں ان سنہرے پھلوں کو خوب استعمال کیجئے اور جب یہ نہ ملیں تو تازہ موسمی پھلوں سے اپنی صحت مستحکم رکھئے۔

Ubqari Magazine Rated 4.0 / 5 based on 323 reviews.