Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اعلان!!! نئی پیکنگ نیا نام فارمولہ،تاثیر اور شفاءیابی وہی پرانی۔ -- اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- تسبیح خانہ لاہور میں ہر ماہ بعد نماز فجر اسم اعظم کا دم اور آٹھ روحانی پیکیج، حلقہ کشف المحجوب، خدمت والو ں کا مذاکرہ، مراقبہ اور شفائیہ دُعا ہوتی ہے۔ روح اور روحانیت میں کمال پانے والے ضرور شامل ہوں۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

میں ورزش اس لیے نہیں کرتا (عرفان محمود، لاہور)

ماہنامہ عبقری - فروری 2011ء

صحیح شعور کے اس دور میں بھی ایک طبقہ ایسا موجود ہے جو ورزش کی بات پر چونک کرکہتا ہے ”کیا! ہم ورزش کریں؟“ ایسے افراد کی واحد ورزش سر اور گردن کو نفی میں حرکت دینا ہے۔ ورزش سے گریز کیلئے ان کے پاس جو عذر ہیں آئیے ذرا ان کا جائزہ لیں کچھ دہائی پہلے تک عوام اپنی صحت کی بقا کیلئے کلیةً سرکاری محکموں اور طبی اداروں پر انحصار کیا کرتے تھے۔ متوازن غذا‘ ورزش اور خوش فکری جیسی تدبیروں کی طرف لوگوں کا کوئی رجحان نہ تھا تاہم طبی معلومات کی فراہمی اور صحیح شعور میں اضافے کے ساتھ لوگوں میں صحت کی حفاظت کے لیے انفرادی ذمے داری کا احساس پیدا ہوا اور اب دنیا بھر میں ایسے مرد اور خواتین کی تعداد روز بہ روز بڑھتی جارہی ہے جو ورزش کو اپنے روزمرہ معمولات کا ایک لازمی حصہ بنا کر اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ آج کے دور میں لوگ پوری رغبت اورسرگرمی کے ساتھ دوڑ‘ تیزقدمی‘ سائیکلنگ وغیرہ جیسی ورزشوں کے ذریعے سے اپنی تندرستی اور جسمانی صحت اور فٹنس برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ مگر صحیح شعور کے اس دور میں بھی ایک طبقہ ایسا موجود ہے جو ورزش کی بات پر چونک کرکہتا ہے ”کیا! ہم ورزش کریں؟“ ایسے افراد کی واحد ورزش سر اور گردن کو نفی میں حرکت دینا ہے۔ ورزش سے گریز کیلئے ان کے پاس جو عذر ہیں آئیے ذرا ان کا جائزہ لیں۔ ورزش سے میرے قلب پر دبائو پڑے گا جی نہیں! اگر آپ باقاعدگی سے معتدل ورزش کریں گے تو ایسا کوئی خطرہ نہیں۔ یقینا آپ کو سست اور کاہلانہ زندگی گزارنے کے بعد فوراً ہی سخت قسم کے ورزشی معمولات شروع نہیں کرنے چاہئیں۔ اس ضمن میں خاص نکتہ اعتدال ہے۔ کسی بھی طرح کی ورزش شروع کرنے سے پہلے معالج سے اپنا مکمل معائنہ کرالینا چاہیے اور آغاز میں کوئی ہلکی پھلکی ورزش کرنی چاہیے۔ ان احتیاطوں کے ساتھ ورزش سے آپ کے قلب کو کوئی ضرر نہیں پہنچے گا بلکہ اس کے افعال میں بہتری آئے گی۔ دی پریونٹو اینڈ سپورٹس مڈیسن سنٹر نیویارک کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نوربرٹ سینڈر کا کہنا ہے ”منظم اور بامعنی ورزش آپ کے پورے جسم پر خوشگوار اثرات ڈالتی ہے۔ یہ جسم میں موجود چکنائیوں کو کم کرتی ہے‘ عضلات کو مضبوط بناتی ہے‘ قلب کو قوت بخشتی ہے‘ سانس اور ہاضمے کو بہتر بناتی ہے‘ گہری اور پرسکون نیند لانے میں مدد دیتی ہے حتیٰ کہ ورزش آپ کے ظاہری خدوخال میں بھی دل کشی پیدا کرتی ہے۔“ مگر‘ میں کوئی اچھا ورزش کار نہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ چند عام فہم احتیاطوں کو بروئے کار لانے سے ان عضلاتی دردوں اورچوٹوں کی روک تھام کی جاسکتی ہے جن کا بعض افراد ورزش کرتے ہوئے شکار ہوتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ورزش شروع کرنے سے پہلے دس منٹ تک جسم کو موڑنے پھیلانے اور اچھل کود کے ذریعے سے نرم بنایا جائے یعنی وارم اپ کیا جائے۔ ورزش کیلئے خصوصی لباس اور مناسب مقام کا انتخاب بھی اہم ہے۔ خواتین‘ بالخصوص فربہ اندام عورتیں‘ ورزش کے وقت اونچی ایڑی کا جوتا نہ پہنیں۔ سخت زمین پر زیادہ دیر تک دوڑنے سے گریز کیا جائے۔ تیز قدمی کے دوران محض پنجوں کے بل دوڑنے کے بجائے پیروں کو ایڑھیوں سے پنجوں کی جانب حرکت دی جائے۔ لیکن‘ میں کچھ زیادہ ہی فربہ ہوں زیادہ وزن کی وجہ سے ورزش سے دور بھاگنا ایک غلط روش ہے۔ مطالعاتی اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ جسمانی وزن کم کرنے کیلئے غذائی پرہیز کے ساتھ ساتھ ورزش کا اہتمام زیادہ اچھے نتائج دیتا ہے‘ بہ نسبت اس کے کہ صرف کھانے پینے کی عادات پر قابو پایا جائے۔ ورزش سے جسمانی توانائی خرچ ہوتی ہے اور حراروں کے جلنے کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے۔ مزید برآں ورزش اس ضمنی مسائل کا بھی تدارک کرتی ہے جو وزن کم کرنے کے نتیجے میں پیش آسکتے ہیں۔ کیا ورزش میری بھوک میں اضافہ نہیں کرے گی؟ اس عام خدشے کے برعکس‘ ورزش بھوک کو دبانے والا عامل ثابت ہوئی ہے۔ حالیہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ سخت ورزش (مثلاً جاگنگ) بھوک میں اضافہ کرتی ہے مگر ہلکی اور معتدل ورزش (مثلاً چہل قدمی) بھوک میں کمی لاتی ہے۔ ورزش اس ذہنی تنائو کو کم کرتی ہے جو بسیار خوری کا ایک معلوم سبب ہے۔ اس کے علاوہ ورزش بے خوابی کورفع کرتی ہے لہٰذا نہ آپ کمزوری محسوس کرتے ہیں اور نہ اس کے تدارک کیلئے آپ کو اپنی غذا میں اضافے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ میں بڑھاپے کی وجہ سے ورزش نہیں کرسکتا ڈاکٹر نوربرٹ سینڈر کہتے ہیں ”جسمانی فعالیت اور چستی کا اندازہ عمر کے پیمانے سے نہیں لگانا چاہیے۔ ماضی میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ 60 برس کی عمر کے بعد جسمانی فعالیت میں کمی آنا شروع ہوجاتی ہے لیکن اب ہم جانتے ہیں کہ ورزش کے ذریعے سے اس عمر کے بعد بھی کئی دہائیوں تک چاق چوبند رہا جاسکتا ہے۔ اس بات سے بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے کہ آپ نے تاخیر سے ورزش کرنا شروع کی ہے۔ باقاعدہ ورزش سے آپ کی صحت و توانائی کی وہ سطح بحال ہوسکتی ہے جو 30 برس پہلے تھی۔“ تاہم معمر افراد کوورزش شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کرلیناچاہیے۔ ورزش کیلئے میرے پاس وقت نہیں ڈاکٹر میسلر کا کہنا ہے کہ صحیح قسم کی ورزش کیلئے وقت نکالنا دراصل دستیاب وقت میں اضافہ کرتا ہے کیونکہ ورزش سے اتنی اضافی توانائی حاصل ہوجاتی ہے کہ آپ کم وقت میں زیادہ کام نمٹانے لگتے ہیں۔ ورزش شروع کرنے کے بعد اکثر لوگ خود کوزیادہ بیدار اور چست محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کا قلب اور پھیپھڑے زیادہ بہتر طور پر کام کرنے لگتے ہیں۔ ورزش سے میری نسوانی خصوصیات متاثر ہونگی بہت سی خواتین کے ذہنوں میں مرد تن سازوں کی تصویر ہوتی ہے اور وہ ڈرتی ہیں کہ ورزش سے ان کا جسم بھی ایسا ہی ہوجائیگا لیکن حقیقت یہ ہے کہ خواتین اگر چاہیں بھی تو مردوں جیسی تن ساز نہیں بن سکتیں‘ کیونکہ ان میں مردوں سے مختلف ہارمون ہوتے ہیں۔ ورزش کا نتیجہ خواتین میں یہ ہوتا ہے کہ عضلات مضبوط تو ہوتے ہیں مگر موٹے نہیں ہوتے۔ کچھ خواتین اس بات سے پریشان ہوتی ہیں کہ ورزش سے چھاتیوں کی سختی اور ابھار متاثر ہوتا ہے یا تولیدی اعضاءکو نقصان پہنچتا ہے۔ درحقیقت بازوئوں کی ورزش سے سینے کے عضلات مضبوط ہوتے ہیں اور نسوانی ابھاروں میں اضافہ ہوتا ہے۔ تولیدی اعضاءپر برا اثر ڈالنے کے بجائے ورزش درد ایام کو رفع کرتی ہے۔۔ آپ نے دیکھا کہ ورزش کے فوائد کے مقابلے میں آپ کے اعتراضات و خدشات کوئی حیثیت نہیں رکھتے‘ لہٰذا انہیں ذہن سے نکال کر ان مردوخواتین کی صف میں شامل ہوجائیے جو باقاعدہ ورزش کے ذریعے سے چستی اور صحت کا نمونہ بنے ہوئے ہیں۔
Ubqari Magazine Rated 4.0 / 5 based on 030 reviews.