Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- خاص تبدیلی اہم نوٹ: پہلے ہرماہ مغرب کے بعد حلقہ کشف المحجوب اور مراقبہ ہوتا تھا مگر اب صبح کے وقت اسم اعظم کے دم کے فوراً بعد ہوا کرے گا تاکہ مسافر سہولت سے گھروں کو واپس جاسکیں ۔۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

موت کے سائنسی اور روحانی انکشافات

علامہ اقبالؒ نے فرمایا ہے: موت ایک چبھتا ہوا کانٹا‘ دل انسان میں ہے
موت کی طرف سب سے پہلی توجہ شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو اس وقت دلائی جب وہ جنت الفردوس میں مجھے قیام پذیر تھے اور اس زمانے سے آج تک اس کا کانٹا انسان کے دل میں پیوست ہے۔ اس سے بچنے کی کوئی تدبیر آج تک دریافت نہ ہوسکی لیکن مصیبت تو یہ ہے کہ کسی کو اس کا علم بھی نہ ہوسکا کہ مرنے کے بعد انسان کا کیا حشر ہوتا ہے اس سلسلے میں روسی سائنسدانوں نے متعدد قسم کے تجربات کیے۔ ایک لب دم شخص کو ہر طرف سے بند شیشے کے بکس میں مقفل کرکے دیکھا کہ اس کی روح کس طرح نکلتی ہے اور کہاں جاتی ہے؟ دوسرے کا منہ اور ناک مصالحہ سے اس طرح چپکا دئیے کہ سانس اندر سے باہر اور باہر سے اندر نہ آسکے…! لیکن مرنے والے مرگئے اور ان کے پلے کچھ نہ پڑسکا۔ اب جہاں تک مجھے علم ہے انہوں نے اپنے ان تجربات کو تضیع اوقات سمجھ کر ترک کردیا ہے۔ مگر اہل امریکہ ابھی تک اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں۔ قارئین کرام…! ’’موت کے سائنسی و روحانی انکشافات‘‘ کتاب میں ایسے جدید و قدیم طریقے‘ مذہبی حوالے‘ سائنسی تجربات‘ فلاسفہ کی فلسفیاں اور ڈھیروں معلومات کے حامل ایسے کئی پیراگراف اور مضامین یکجا جمع کردئیے ہیں…! موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار کرنے والا اس پوری دنیا میں نہ کوئی تھا‘ نہ ہے‘ نہ ہوگا…! اور اس حقیقت کو جاننے کو جانتے ہوئے بھی کچھ سائنسدان نت نئے تجربات بھی کرتے رہتے ہیں۔ مگرمؤلف اپنی کتاب ’’موت کے سائنسی و روحانی انکشافات‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’ان تجربات و فلسفوں میں سے کوئی بات بھی حتمی تحقیق قرار نہیں دی جاسکتی۔ انسان جس طرح راز حیات پانے میں خلیے کی پیچیدگیوں کو حل کرنے کی تگ و دو کررہا ہے اسی طرح موت کا راز پانے میں بھی اس کے عوامل کو جاننے کے جھمیلے میں پڑا ہوا ہے۔ وہ تحقیق پر قادر ہوسکتا ہے نہ موت پر کامیابی پانا ممکن ہے۔ سائنسدان اپنی اعلیٰ سے اعلیٰ سائنسی اسلحے سے مسلح ہوکر جو نئی تحقیق کرتے ہیں وہ انہیں مزید حیرت زدہ کرکے رکھ دیتی ہے۔ اس کے باوجود مغربی تہذیب چونکہ خدا اور اس کی صفات سے آشنا نہیں اورمادی ترقیوں کے بل بوتے پر اپنے لیے عجزو فروتنی کو برداشت نہیں کرتی‘ لہٰذا سائنسی دان اس بات کا اعتراف نہیں کرتے کہ موت و حیات کا نظام سائنس کی دسترس سے باہر ہے۔ سائنس کی ترکتازیوںکی حدود متعین ہیں۔ ان سے آگے ایک ایسی دیوار حائل ہے جسے وہ کبھی عبور نہیں کرسکتے۔ا س دیوار سے آگے وہ حقائق ہیں جنہیں آسمان وزمین کے مالک نے کھول دیا ہے‘‘کتاب کے مضامین کے عنوان ملاحظہ ہوں…٭ موت کے رموزو اسرار ٭ موت کا تخلیقی اور روحانی پہلو٭ موت کی تیاری٭ موت سے مصافحہ ٭ مرنے کا فن سیکھئے٭ موت و حیات سائنس کی نگاہ میں٭ مغربی معاشرہ اور موت کی حقیقت۔ 115 صفحات پر مشتمل‘ دلآویز ڈبل ٹائٹل کی یہ کتاب آپ کے نایاب ذخیرہ کتاب کا اضافہ کرسکتی ہے۔

 



مزید کتب