Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- تسبیح خانہ لاہور میں ہر ماہ بعد نماز فجر اسم اعظم کا دم اور آٹھ روحانی پیکیج، حلقہ کشف المحجوب، خدمت والو ں کا مذاکرہ، مراقبہ اور شفائیہ دُعا ہوتی ہے۔ روح اور روحانیت میں کمال پانے والے ضرور شامل ہوں۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔ -- سورۂ اخلاص کی گیارہ جمعراتوں کے عمل کا آغاز 29 ستمبر 2022 ءسے ہوا اور الوداعی دُعا 8 دسمبر 2022ء کو ہوگی، تسبیح خانہ میں لنگر پکا کر لائیں اور خود تقسیم کریں ہمیشہ ہدیہ کی نیت سے لائیں۔ اختتامی دُعا کے موقع پر شیخ الوظائف کی طرف سے ہر آنے والے کو لڈو کا ڈبہ گفٹ کیا جائے گا۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

صادق دوست اور قلعہ ڈ یراور

ریاست بہاولپور کے شہر احمد پور میں آنکھ کھلی تعلیم و تربیت کے تمام مراحل یہیں طے ہوئے، تاریخ لکھنے پڑھنے کا بچپن ہی سے ذوق تھا، بہت کچھ لکھا پڑھا اور سنا۔ تاریخ بہاولپور کے بارے میں بچپن ہی سے شناسائی کی شنوائی ہورہی تھی کہ کسی دور میں بہاولپور ریاست علم کا مرکز اور محور رہی ہے جہاں بڑے بڑے نامو ر علماء ، ادیب ، طبیب اور بزرگان دین و ملت پیدا ہوئے ، دنیا بھر میں یہاں کی تعلیمی حیثیت مسلمہ تھی، دور دراز سے لوگ یہاں حصول علم کی خاطر آتے ، بڑے بڑے مشائخ عظام کا مرکز نظر یہی ریاست ہوا کرتی تھی۔ افسوس صد افسوس…! آج یہ تمام باتیں صرف تاریخ کا ایک حصہ بن کر رہ گئی ہیں ۔
لیکن سچ ہمیشہ سچ ہوتا ہے، تاریخ میں بکھرے واقعات اس سچ کو نکھارتے، سنوارتے اور روشن کرتے ہیں۔ بہاولپور بھی ایک تاریخی ریاست گزری ہے جو اپنا ایک روشن اسلامی تمدن اور بہترین تشخص رکھتی ہے ۔ یہی وہ باتیں تھیں جو مجھے بار بار قلم اٹھانے پر مجبور کررہی تھیں لیکن سوال یہ تھا کہ اس بارونق، مردم خیز اور پروقار ریاست کی کون سی جگہ ،کون سی شخصیت کو موضوع بحث بنایا جائے۔ اس ریاست کے صرف ایک شہر اوچ شریف ہی کو ا گر لے لیا جائے تو یہاں کی ایک ایک بزرگ شخصیت پر لکھنے کیلئے دفتروں کے دفتر ناکافی ہیں۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگاسکتے ہیں کہ یورپ کی بعض نامور یونیورسٹیوں میں اس موضوع پر بڑے تحقیقی علمی پی ایچ ڈی کے مقالے لکھے جاچکے ہیں ۔
اللہ کے فضل و کرم سے یہ میری 160سے زائد ویں علمی تالیف ہے لیکن اپنے موضوع پر پہلی کوشش ہے ۔اس موضوع پر بہت کچھ لکھنے کا ارادہ تھا جو ابھی باقی بھی ہے لیکن مصروفیات کے پہاڑ اس میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔ دعا فرمائیں اللہ وقت میں برکت عطا فرمائے ۔
زیر نظر کتاب ’’صادق دوست اور قلعہ ڈراور ‘‘تاریخ کے روح پرور نقوش کو اجاگر کرنے کی ایک بہت چھوٹی سی کوشش ہے جو دراصل برصغیر پاک و ہند میں اسلامی نظام حیات کے فروغ کی داستان کے اظہار کا چھوٹا سا اشارہ ہے۔ میرا کوئی دعویٰ نہیں بس اہل علم، قلم و دانش کو ایک دعوت فکر ہے کہ ریاست بہاولپور بھی ہمارا ایک تاریخی علمی ورثہ ہے جو آپ سے قرطاس ابیض پر اپنی تابناک اور روشن تاریخ کے نقوش بکھیرنے کا مطالبہ کررہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ عقل مند قومیں کبھی اپنی کامیاب تاریخ کو بھلاتی نہیں بلکہ نشان منزل بناتی ہیں ۔



مزید کتب