Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- خاص تبدیلی اہم نوٹ: پہلے ہرماہ مغرب کے بعد حلقہ کشف المحجوب اور مراقبہ ہوتا تھا مگر اب صبح کے وقت اسم اعظم کے دم کے فوراً بعد ہوا کرے گا تاکہ مسافر سہولت سے گھروں کو واپس جاسکیں ۔۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

صلوۃ تسبیح کے کرشمات

نماز کے ذریعہ گناہوں کے معاف ہونے اورمعصیات کے گندے اثرات کے زائل ہونے کا ذکر تو اصولی طورپر قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا:’’وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ‘‘۔ (ھود:۱۱۴)لیکن اس تاثیر میں’’صلوٰۃ التسبیح‘‘ کا جو خاص مقام اوردرجہ ہے وہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی مندرجہ بالا حدیث میں پوری صراحت کے ساتھ ذکر کردیا گیا ہے، یعنی یہ کہ اس کی برکت سے بندہ کے اگلے، پچھلے، پرانے، نئے، دانستہ، نادانستہ، صغیرہ کبیرہ، پوشیدہ،علانیہ ،سارے ہی گناہ اللہ تعالی معاف فرمادیتا ہے اور سنن ابی داؤد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی (عبداللہ بن عمروؓ) کو ’’صلوۃ التسبیح‘‘ کی تلقین کرنے کے بعد ان سے فرمایا:’’فَاِنَّکَ لَوْکُنْتَ اَعْظَمَ اَھْلِ الْاَرْضِ ذَنْباً غُفِرَلَکَ بِذَالِکَ‘‘۔(سنن ابی داؤد ، باب صلاة التسبيح، حدیث نمبر:۱۱۰۵)
’’تم اگر بالفرض دنیا کے سب سے بڑے گناہ گار ہوگے تو بھی اس کی برکت سے اللہ تعالی تمہاری مغفرت فرمادے گا‘‘۔ اوربعض تابعین ؒاورتبع تابعین ؒ حضرات سے(جن میں عبداللہ بن مبارکؒ جیسے جلیل القدر امام بھی شامل ہیں) صلوٰۃ التسبیح کا پڑھنا اوراس کی فضیلت بیان کرکے لوگوں کو اس کی ترغیب دینا بھی ثابت ہے اوریہ اس کا واضح ثبوت ہے کہ ان حضرات کے نزدیک بھی ’’صلوٰۃ التسبیح‘‘کی تلقین اورترغیب کی حدیث رسول اللہﷺ سے ثابت تھی اور زمانہ مابعد میں تو صلوٰۃ التسبیح اکثر صالحین امت کا معمول رہی ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے اس نماز کے بارے میں ایک خاص نکتہ لکھا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہﷺ سے نمازوں میں (خاص کر نفلی نمازوں میں ) بہت سے اذکار اوردعائیں ثابت ہیں۔ اللہ کے جو بندے ان اذکار اوردعاؤں پر ایسے قابو یافتہ نہیں ہیں کہ اپنی نمازوں میں ان کو پوری طرح شامل کرسکیں اوراس وجہ سے ان اذکار ودعوات والی کامل ترین نماز سے وہ بے نصیب رہتے ہیں ان کیلئے یہی صلوٰۃ التسبیح اس کامل ترین نماز کے قائم مقام ہوجاتی ہے، کیونکہ اس میں اللہ کے ذکر اورتسبیح و تحمید کی بہت بڑی مقدار شامل کردی گئی ہے اورچونکہ ایک ہی کلمہ بار بار پڑھا جاتا ہے اس لیے عوام کیلئے بھی اس نماز کا پڑھنا مشکل نہیں ہے۔
قارئین! جب شیطان ذہن پر حاوی ہوتا ہے پھر میاں بیوی کے جھگڑے، اولاد کی نافرمانیاں، نماز میں دل نہ لگنا، کاروبار میں بے برکتی، شادی و نکاح میں رکاوٹ، صحت کی خرابی، دماغی کیفیت میں رد و بدل اور بہت کچھ۔ جب کسی کے دل سے رحمت اٹھ جائے، احکام الٰہیہ کہ خلاف ورزی شروع ہو جائے تو پھر شیطان اپنے راستے ہموار کر لیتا ہے۔ صلوٰۃ التسبیح سے جنت ملتی ہے ، معافی ہوتی ہے ، مغفرت ملتی ہے...! یہ بات توسمجھ آتی ہے ، مرنے کے بعد کی کھربوں سال کی زندگی جس کو اللہ کہتا ہے ابداً ابداً...! ابدالآباد کی زندگی جس کی کوئی limitنہیں ہے۔ جو عمل مرنے کے بعد ہمیشہ کے نظام کوکامیاب کرسکتا ہے ،کیا وہ مرنے سے پہلے کے پچاس ساٹھ سال یا ستر سال کے نظام کی اصلاح کے لئےاور ان مسائل کے حل کیلئے کافی نہیں ہے؟ذرا سا سوچیں!۔



مزید کتب