Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- تسبیح خانہ لاہور میں ہر ماہ بعد نماز فجر اسم اعظم کا دم اور آٹھ روحانی پیکیج، حلقہ کشف المحجوب، خدمت والو ں کا مذاکرہ، مراقبہ اور شفائیہ دُعا ہوتی ہے۔ روح اور روحانیت میں کمال پانے والے ضرور شامل ہوں۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

ماؤں ہوش کرو! آپ کی اولاد کس ڈگر پر چل پڑی؟

ماہنامہ عبقری - جون 2017

اس دور میں جہاں بیٹیوں کو ماں باپ کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے ماں باپ کو ان کا دوست ہونا چاہئے وہ اپنے ماں باپ سے خار کھارہی ہوتی ہیں گھروں سے بھاگنے کے پلان بن رہے ہوتے ہیں ان کو ایسا لگتا ہے کہ کوئی انہیں نہیں سمجھتا۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! میں گزشتہ پانچ سال سے تعلیم کے شعبہ سے وابستہ ہوں بچوں کو پڑھاتی ہوں میرے تجربے میں ایک بات ہے جوکہ میں آپ تمام سے شیئر کرنا چاہوں گی‘ اس سے پہلے یہ بات بتاتی چلوں کہ میرے پاس جو بچے آتے ہیں وہ دراصل لاہور کی کریم ہے یعنی لاہور شہر کے تمام بڑے سکولوں کے بچے آتے ہیں اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی جانب‘ آج کل والدین نے اپنے بچوں کے ساتھ کوالٹی ٹائم گزارنا چھوڑ دیا ہے بظاہر تو وہ بچوں کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن ان کی توجہ کہیں اور ہوتی ہے مثال کے طور پر اگر ماں ہے تو وہ جاب کرتی ہے گھر آکر اس کو گھر کے امور اور پھر اگلے دن کی ترتیب اور پھر سب سے ضروری اپنے موبائل سے فرصت نہیں‘ باپ ہے تو وہ ہر وقت بزنس‘ لیپ ٹاپ اپنے دوست احباب یا پھر موبائل اورکچھ نہیں تو نیوز چینل ‘زندہ باد یعنی کہ ایک ماں جو قوم کی معمار اور ایک باپ جس سے اس کی رعیت یعنی اس کے اپنے گھر کے بارےمیں سوال کیا جائے گا اس نے یہ سوچ سمجھ لیا کہ میرے ذمہ صرف ان کے اخراجات پورے کرنا ہیں۔ آپ یقین کیجئے کہ میرے پاس بچیاں آتی ہیں اور یہ بتاتی ہیں کہ ہم اپنے باپ سے ایک گھر میں ہونے کے باوجود ایک ایک ہفتہ سلام نہیں کرپاتیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ابا نے اپنے ارد گرد ایک عجیب سا د ائرہ بنا رکھا ہے جس میں شامل ہی نہیں کہ انہیں اپنی بیٹیوں سے بات کرنی ہے۔ 9th سے لے کر 2nd year تک کی لڑکیاں۔ لڑکیوں کی بات اس لئے کررہی ہوں کہ آج کے دور میں لڑکیوں کی یہ عمرسب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ ہمارا معاشرہ میڈیا ان سب نے ہم سے زندگیوں کا سکون لوٹ لیا ہے اور ہم ان کے رنگ میں ڈھلتے جارہے ہیں اس دور میں جہاں بیٹیوں کو ماں باپ کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے ماں باپ کو ان کا دوست ہونا چاہئے وہ اپنے ماں باپ سے خار کھارہی ہوتی ہیں گھروں سے بھاگنے کے پلان بن رہے ہوتے ہیں ان کو ایسا لگتا ہے کہ کوئی انہیں نہیں سمجھتا‘ انہیں اہمیت نہیں دی جاتی کیونکہ ماں باپ کے پاس وقت ہی نہیں‘ ایسے میں وہ باہر سہاراڈھونڈنا شروع کردیتی ہیں ماں باپ کو ہوش اس وقت آتا ہے جب بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ جب ان کی پرورش کا وقت تھا اس وقت تو ہوش نہ آیا‘ وقت سے پہلے موبائل کے فوائد نقصانات بتائے بغیر انہیں فون دے دیا پھر ستم یہ کہ انٹرنیٹ ۔میں اس تمام جدت کے خلاف نہیں لیکن ہر چیز کی حد مقرر ہونی چاہئے۔ ہمیں اپنی اولاد کو باور کروانا چاہئے کہ ان کی کچھ حدود ہیں جن سے باہر قطعاً نہیں جایا جاسکتا۔ آج کل آپ بچوں سے کچھ نہیں چھپاسکتے آپ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ جو آپ نہیں بتائیں گے وہ باہر سے پتا چلے گا اور وہ کس رنگ میں‘کس طرح چلے اس کا نقصان آپ ہی کو بھگتنا ہوگا۔ میری تحریر بے ترتیب ہے لیکن مجھے کہنا ہے کہ آج کل یہ نوجوان بچیوں نے باتھ روم بغیر باتھ روم کی دعا اور ڈوپٹہ سے جانا شروع کردیا ہے اور ہائی کلاس میں تویہ بہت عام ہے کیونکہ ان کے باتھ روم اتنے لگژری سے بھرپور ہیں کہ پوچھئے مت ‘ہم تو بس یہ جانتے ہیں جب ہمارے نبی کریمﷺ نے فرمادیا کہ’’ وہاں شیاطین کے خاندان آباد ہیں‘‘ تو اس کا معنی ہے کہ واقعی‘ بے شک ہیں! آپ چاہے جتنا مرضی اسے آراستہ کرلیں‘ بچیاں بے فکری سے وقت باتھ روم میں گزارتی ہیں‘ گانے گاتی ‘سنتی ‘ گاتی ہیں۔ مائوں کو ہوش نہیں پرواہ نہیں‘ باتھ روم میں فون ہیں‘ لمبی لمبی باتیں ہورہی ہیں۔ ہم چھوٹے تھے‘ ہماری مائیں باتھ روم لے جاتے وقت ہماری طرف سے دعا پڑھا کرتی تھیں‘ ذرا بولنے کے قابل ہوئے تو دعائیں یاد کروادی گئیں۔ آج کل رواج ہی نہیں‘ بچوں کو بتائو تو حیران ہوتے ہیں‘ انہیں لگتا ہے کہ میں پاگل ہوں یا انتہائی دقیانوس ہوں جو ایسی باتیں کررہی ہوں کیونکہ انہوں نے بھی یہ باتیں اپنے گھروں میں نہ دیکھی ‘ نہ سنیں۔ باتھ روم میں جاکر سٹڈی کرنا‘موبائل فون استعمال کرنا ان تمام برائیوں کی جڑ ہے جو آج ہم میں عام ہیں۔ یہ تو جنات خود کہتے ہیں کہ ہمیں عورت کا جسم پسند ہے جو دعا نہیں پڑھتا ہم اس کے جسم سے شرارت کرتے ہیں۔ پلیز! میری آپ تمام والدین سے التماس ہے کہ جیسے آپ اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دیتے ہیں ویسے ہی ان کی تربیت پر بھی توجہ دیں۔ یہ نہ سوچیں کہ سکول بھیج دیا یا ٹیوشن یا قاری صاحب آگئے تو اب دین کا ٹھیکہ ان کا‘ دنیا کا سکول کا۔ اپنے بچوں کو اعتماد میں لیں ان سے بات کریں تاکہ آپ کو اندازہ ہوکہ وہ کس سمت میں جارہے ہیں۔ ایسا نہ ہوکہ ہم اپنی مصروفیت میں اپنے سرمائے کو کھودیں۔ انٹرنیٹ دیں مگر ہسٹری چیک کریں‘ آج کل بآسانی سافٹ وئیر دستیاب ہیں‘ انٹرنیٹ رات 10 بجے بند کردیں۔ 11 سال سے کمر عمر بچے کو ٹیبلٹ یا موبائل مت دیں اس کے بعد بھی اگر دیں تو اپنی نگرانی میں 30 سے 45 منٹ کیلئے۔ جاپان‘ چائنہ‘ کوریا میں باقاعدہ یہ بیداری پیدا کی جارہی ہے کہ 11 سال سے کم عمر بچوں کو صرف پڑھائی کے علاوہ ٹیبلٹ وغیرہ نہ دیے جائیں کیونکہ ایک اندازہ کے مطابق انٹرنیٹ پر موجود 13 سال کا بچہ ایکسپوز ہوچکا ہوتا ہے۔ ایک اور بات کہ نئے دور کے تقاضے کو سمجھیں اور بچوں کو اصول سکھائیں کہ انٹرنیٹ پر کسی سے بات چیت کے دوران کبھی بھی اپنی اصل شناخت‘ جگہ نام پتہ کبھی بھی کسی سے بھی شیئر نہ کریں۔ کوئی آپ کو کتنے ہی واسطے اور تعلق کیوں نہ دے‘  دوسری بات کہ اگر کوئی بھی انہیں پریشان کررہا ہے تو فوراً ان سے کہیں کہ گھر میں کسی بھی بڑے کو جیسے ماں باپ بڑا بھائی بہن دادا‘ دادی کو آگاہ کریں۔ آج کل یہ بہت عام ہے کہ آپ سے کسی بھی طرح آپ کی انفارمیشن لے کر آپ کو بلیک میل کیا جائے ہراساں کیا جائے۔ لڑکیاں اندر ہی اندر گھٹتی رہتی ہیں گھر والوں سے ڈر کے مارے کچھ نہیں کہتیں اب وہ دور نہیں رہا ‘گھبرانا چھوڑ دیں جو غلطیاں آپ سے ہوئی ہیں ان کا اعتراف کریں اور گھر والوں کو سب سچ بتائیں۔ گورنمنٹ کی ویب سائٹ ہے سائبر کیسز کے حوالے سے ان سے رابطہ کریں۔ www.nr3c.gov فیس بک کی اپنی ٹیم ہے ان سے رابطہ کریں اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں‘ اپنی ایک غلطی کی وجہ سے زندگی برباد مت کریں۔ میری باتیں تلخ‘ بے ربط الجھی ہوئی ضرور ہیں مگر میرے اندر ایک درد ہے جو ان نوجوان بچیوں کیلئے ہے میں بہت پریشان ہوتی ہوں جب بچیاں ایسی باتیں آکر مجھ سے کہتی ہیں ‘ناجانے ہم کہاں جارہے ہیں؟ آخر کون سے ایسے تمغے ہیں جو ہمیں اپنے بچوں کو دین سے آشنا کروانے سے روکتے ہیں؟ ہم نے سوچ کا معیار بدل لیا ہے؟ ہم کہتے ہیں کہ جو برقعہ والی ہے ‘ڈاڑھی والا ہے وہ پرانے زمانے کا ہے اور جو جتنا ننگا ہے وہ اتنا ماڈرن ہے جو اردو بولے وہ پینڈو ہے جو جتنا منہ چڑھا کر انگریزی جھاڑے وہ پڑھا لکھا ہے۔

Ubqari Magazine Rated 3.7 / 5 based on 792 reviews.