Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- خاص تبدیلی اہم نوٹ: پہلے ہرماہ مغرب کے بعد حلقہ کشف المحجوب اور مراقبہ ہوتا تھا مگر اب صبح کے وقت اسم اعظم کے دم کے فوراً بعد ہوا کرے گا تاکہ مسافر سہولت سے گھروں کو واپس جاسکیں ۔۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

دو بچے کیا ہوئے‘ ازدواجی زندگی ختم! آئیےدوبارہ خوشیاں پالیں

ماہنامہ عبقری - جولائی 2021ء

(حریم فاطمہ،کراچی)

میاں بیوی کا رشتہ اتنا مضبوط اور اتنا محبت بھرا ہونا چاہیے کہ جو نہ صرف محسوس ہو بلکہ دوسروں کو نظر بھی آئے۔

بہت سے جوڑے بچوں کی پیدائش کے بعد شادی شدہ زندگی کا لطف کھو بیٹھتے ہیں، ان کے درمیان ایک دوسرے کے لیے پہلے جیسی کشش باقی نہیں رہتی، حالانکہ ایسا ہونا نہیں چاہیے۔ مگر اس کے باوجود مشرق ہو یا مغرب، یہ مسئلہ ساری دنیا میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اولاد ہونے کے بعد ماں اور باپ دونوں کی زندگی خوشیوں سے بھر جاتی ہے۔ خوشگوار ازدواجی زندگی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں دونوں اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ان ذمہ داریوں اور ان کی وجہ سے پیش آنے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کرتے ہیں‘ ایسے میں میاں بیوی کے درمیان غیر محسوس طریقے سے فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ پھر جوں جوں بچہ بڑا ہوتا ہے، میاں بیوی کی توجہ اس پر زیادہ اور ایک دوسرے پر مزید کم ہونے لگتی ہے۔ رفتہ رفتہ بچوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے اور شادی شدہ زندگی ان ہی بچوں کے درمیان کہیں گم ہوکر رہ جاتی ہے۔ میاں اور بیوی صرف ماں اور باپ بن کر رہ جاتے ہیں۔ یہاں ہم آپ کو ماہرین کے تجویز کردہ چند ایسے مشورے دے رہے ہیں جن پر عمل کرکے آپ نہ صرف اپنی نوبیاہتا زندگی کے حسین لمحات کو واپس لاسکتے ہیں بلکہ اس میں مزید بہتری لاکر باقی زندگی کو ہمیشہ کے لیے خوشگوار اور محبت سے بھرپور بناسکتے ہیں۔
شریک حیات کو ترجیح دیجئے
میاں بیوی کو چاہیے کہ بچوں کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو ترجیح دیں۔ وہ اس لیے کہ شادی کو خوشگوار زندگی میں ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ میاں بیوی کا رشتہ اتنا مضبوط اور اتنا محبت بھرا ہونا چاہیے کہ جو نہ صرف محسوس ہو بلکہ دوسروں کو نظر بھی آئے۔ مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ بچوں کو کم اہمیت دیں۔ بچوں کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اگر آپ کے اپنے شریک حیات کے ساتھ بہتر تعلقات ہوں گے تو اس سے بچوں میں احساس تحفظ بڑھے گا۔ بچے تو بڑے ہوں گے اور اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہو جائیں گے۔ بڑھاپے میں آپ دونوں ہی ایک دوسرے کے کام آئیں گے۔ اس لیے بچوں کو جواز بناکر اپنے شریک حیات سے کنارہ کش نہ ہو جائیں، اسے بھی وقت دیں۔ آپ دونوں ایک دوسرے کو اہمیت دیں گے تو بچے بھی آپ دونوں کی اہمیت کو سمجھیں گے اور قدر کریں گے۔ ساتھ ہی ان کے ذہن میں یہ حقیقت بھی آشکار ہوگی کہ دنیا صرف ان کے گرد نہیں گھومتی اور بھی لوگ ہیں جن کی اہمیت ہے۔
ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیں
میاں اور بیوی کو ایک دوسرے کا پرستار ہونا چاہیے اس سے صحت مند ازدواجی تعلقات برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ کوئی چھوٹا یا بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے پرستار سے مشورہ کریں۔ اگر اس کا کوئی فیصلہ آپ کو پسند نہیں تو اسے یکسر مسترد نہ کریں۔ کوشش کریں کہ آپ جو بھی فیصلہ کریں وہ باہمی مشورے اور رضا مندی سے ہو۔ بچوں پر بھی یہ ظاہر کرنا چاہئے کہ ان کے والدین کسی بھی صورت حال میں ایک ہیں اور مل کر ہی قدم اٹھاتے ہیں، اس سے بچوں کو بھی یہ تربیت ملے گی کہ کوئی بھی فیصلہ تنہا نہیں کرنا چاہئے بلکہ اپنوں کو اعتماد میں لے کر قدم اٹھانا چاہئے۔ اگر بچے کے کسی معاملے پر میاں بیوی میں اختلاف ہوتو انہیں چاہئے کہ وہ اس پر علیحدگی میں بحث کریں اور علیحدگی کے دوران بحث میں بھی ایک دوسرے کو ترجیح دیں۔ اس سے میاں بیوی کے درمیان قربت اور گہرا تعلق رہتا ہے جو عموماً بچے ہونے کے بعد کم ہو جایا کرتا ہے۔
اپنا بھی خیال رکھیں
بہت سے والدین، خصوصاً خواتین بچے ہونے کے بعد خود پر توجہ نہیں دیتیں، اکثر سنا جاتا ہے کہ اب تو بچے ہوگئے، ان کے پہننے اوڑھنے کے دن ہیں، ہمارے دن گئے وغیرہ۔ یہ طرز عمل غلط ہے۔ شوہر یا بیوی، دونوں یہ چاہتے ہیں کہ ان کا شریک حیات اچھا نظر آئے۔ جیون ساتھی کے دل میں اپنے لیے کشش برقرار رکھنی ہے تو صاف ستھرا لباس پہنیں، لباس میں اس کی پسند کا خاص خیال رکھیں۔ میک اپ کریں، مختلف ہیئرسٹائل اپنائیں، بالکل اسی طرح زندگی گزاریں جس طرح آپ بچے ہونے سے پہلے شادی کے ابتدائی ایام میں گزارتی تھیں۔ مرد حضرات کو بھی چاہیے کہ شادی بیاہ یا کسی تہوار پر صرف بیوی بچوں کو شاپنگ کراکر جیب نہ خالی کریں کچھ اپنا بھی خیال کریں۔
ایک دوسرے کی ستائش کریں
اپنے شریک سفر کو ہمیشہ یہ احساس دیں کہ وہ آپ کے لیے اب بھی اتنا ہی پرکشش اور اسمارٹ ہے جتنا وہ پہلے تھا۔ اس کی تعریف کریں فیملی کے لیے اس کی سخت محنت کو سراہیں اور اس پر بار بار یہ ظاہر کریں کہ اسے آپ کی اور بچوں کی کتنی فکر ہے، اس کے اس جذبے کی قدر کریں۔ شوہروں کو بھی چاہیے کہ بچے ہونے کے بعد بیوی کو ہرگز یہ احساس نہ ہونے دیں کہ اب اس کی خوبصورتی ڈھل رہی ہے اور اس میں اب پہلے جیسی کشش نہیں رہی، اس کی تعریف کریں۔ اسے بتائیں کہ وہ بچوں کی بہترین پرورش اور دیکھ بھال کررہی ہے۔ ساتھ ہی گھر کے کام کاج میں بھی وہ پیچھے نہیں۔
آپس میں رابطہ رکھیں
یہ بھی اکثر دیکھا گیا ہے کہ بچے ہونے کے بعد میاں بیوی کاایک دوسرے سے رابطہ بہت کم ہوجاتا ہے، شوہر کام میں مصروف ہوتا ہے اور بیوی گھر کے کاموں اور بچے پالنے میں لگی رہتی ہے۔ دونوں صرف کام کی بات کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یوں لگتا ہے جیسے ان کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں۔ یہ غلط رویہ ہے۔ میاں بیوی کو چاہیے کہ روزانہ کچھ وقت نکالیں اور دن بھر کی مصروفیات یا واقعات ایک دوسرے سے شیئر کریں۔ اس طرح کی باتیں تو ہوتی ہی ہیں مگر آپ باقاعدہ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر تبادلہ خیال کریں اور ایک دوسرے کی بات توجہ سے سنیں۔
ایک دوسرے کو تحفے تحائف دیں
وہ دن یاد کریں جب آپ کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ کس طرح ایک دوسرے کا خیال رکھا جاتا ہے، تحفہ دینے کے لیے موقع تلاش کیا جاتا تھا، مگر اب بچے ہونے کے بعد یقیناً یہ سب ماضی کا حصہ محسوس ہوتا ہوگا۔ اس سلسلے کو جاری رکھیں۔ اپنے شریک سفر کو تحفے دیتے رہیں۔ پھول، چاکلیٹ، کپڑے جو بھی اسے پسند ہو، تحفے کے لیے موقع کا انتظار نہ کریں، اسے سرپرائز دیں۔ موقع کی مناسبت سے بھی تحائف کا سلسلہ جاری رکھیں۔
بچوں اور والد کے درمیان ہرگز نہ آئیں!
بچے کی زندگی میں ماں اور باپ دونوں کا کردار ایک دوسرے سے کافی مختلف ہوتا ہے۔ ماں بچے کی بہترین تربیت کی ذمہ دار ہوتی ہے، اس لیے اسے بچے کے ساتھ بعض اوقات سختی بھی کرنی پڑتی ہے اور کبھی کبھار مارپیٹ سے بھی کا لینا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس باپ چونکہ سارا دن کام پر ہوتا ہے اس لیے اسے جو تھوڑا بہت وقت ملتا ہے وہ اسے بچے کے ساتھ ہنسی مذاق میں گزارنا پسند کرتا ہے۔ وہ بچوں کی ضدیں اور خواہشیں پوری کرتا ہے، ایسے میں بعض مائوں کا خیال ہوتا ہے کہ اس طرح بچے بگڑ جائیں گے۔ خواتین کو چاہئے کہ اپنے شوہر اور بچوں کے درمیان بلاوجہ دیوار نہ بنیں، انہیں کھیلنے دیں۔ روک ٹوک نہ کریں۔ وہ بھی آخر باپ ہے اسے پتہ ہے کہ بچے کو کس طرخ خوش کرنا ہے اور کس طرح قابو میں رکھنا ہے۔
سارے مسئلے حل نہیں ہوتے
اگر آپ یہ توقع کرتے ہیں کہ آپ کا شریک حیات آپ کی تمام توقعات اور خواہشات پر پورا اترے اور اس میں کوئی خامی یا کوتاہی نہ ہو تو یقیناً آپ کو مایوسی ہوگی۔ میاں بیوی کے درمیان بیشتر جھگڑوں کی بنیاد دونوں کی شخصیت میں پایا جانے والا وہ فرق ہوتا ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔ بہتر یہی ہے کہ آپ اپنے شریک حیات کو اس فرق کے ساتھ قبول کرلیں۔ اگر آپ کو اس سے کوئی شکایت ہے تو لڑنے جھگڑنے کے بجائے اس کا برملا اظہارکریں۔ اسے دل میں بھی نہ رکھیں۔ کوشش کریں کہ اس تک بہتر طریقے سے اپنی شکایت پہنچائیں۔ ایک دوسرے میں خامیاں تلاش کرنے اور اس پر جھگڑنے کے بجائے، ایک دوسرے کی خوبیوں پر نظر رکھیں۔ خامیاں خودبخود غائب ہوتی چلی جائیں گی، اور شادی شدہ زندگی پہلے کی طرح پھر سے حسین ہو جائے گا۔

 

 
Ubqari Magazine Rated 3.5 / 5 based on 750 reviews.