Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- خاص تبدیلی اہم نوٹ: پہلے ہرماہ مغرب کے بعد حلقہ کشف المحجوب اور مراقبہ ہوتا تھا مگر اب صبح کے وقت اسم اعظم کے دم کے فوراً بعد ہوا کرے گا تاکہ مسافر سہولت سے گھروں کو واپس جاسکیں ۔۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

دفتری ،گھریلو اور سماجی زندگی اجیرن ہے تو یہ عادت چھوڑ دیجئے!

ماہنامہ عبقری - جولائی 2021ء

(پروفیسر ڈاکٹر محمد وسیم)

دو نوجوان پارک کے ایک کونے میں کسی اختلافی مسئلے پر چیخ چیخ کر ایک دوسرے کو کچھ سمجھانے کی کوشش کررہے تھے۔ دور بیٹھے ایک بزرگ قریب آئے اور فرمایا بیٹا آپ دونوں قریب بیٹھے ہو اتنی زور زور سے بول کر ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کررہے ہو جو مسئلہ بھی ہے اسے نرم اور دھیمی آواز میں بھی بیان کیا جاسکتا ہے۔ ایک نوجوان بوالا: بابا جی! آپ اپنا کام کریں ہمارے مسئلہ میں مداخلت نہ کریں۔ بزرگ نے نرمی سےکہا کہ جب ہم گفتگو کرتے ہیں تو ہماری بات چیت کانوں کے علاوہ دل بھی سنتے ہیں اسی لیے اچھی باتوں کا اثر ہمارے دل پر ہوتا ہے۔ اگر دل میں غصہ اور نفرت ہوتو قریب بیٹھا شخص بھی دور ہو جاتا ہے۔ غصہ، حسد اور نفرت دلوں کے فاصلے بڑھا دیتے ہیں۔ محبت آمیز رویہ اور نرم الفاظ دلوں پر اثر کرتے ہیں اس لیے اگر آپ اپنا اختلاف ختم کرنا چاہتے ہیں تو غصہ بھری بلند آواز سے نہیں، نرمی اور دھیمی آواز میں بات کرو تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ گرج چمک سے دل دہلتے ہیں مگر شبنم کے نرم قطرے پھولوں کی پرورش کرتے ہیں۔
غصے کو لمحاتی پاگل بھی کہا جاتا ہے۔ غصہ کی حالت میں ایک کے بعد ایک غلط فیصلے ہوتے چلے جاتے ہیں حالانکہ ٹھنڈا دماغ طوفانوں پر قابو پاسکتا ہے مگر مشتعل دماغ کنارے پر کشتی ڈبو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غصہ انسان کی گھریلو، دفتری اور سماجی زندگی اجیرن کردیتا ہے۔ ایک صاحب لکھتے ہیں کہ ’’غصیل آدمی نہ اچھا تراک ہوسکتا ہے نہ اچھا کھلاڑی، غصیل آدمی باہمی مقابلہ، سپورٹس کے حلقوں میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ غصہ ایک ایسی چنگاری ہے جو اگر ابتدائی حالت میں نہ بجھائی جائے تو وہ آگ کی شکل اختیار کرلیتی ہے، جس سے جھلسنے اور پچھتانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا‘‘۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ غصہ ہمیشہ اپنے سے کم تر شخص پر آتا ہے مثلاً بچے، شاگرد، بیوی، ملازم وغیرہ ہم اپنے افسران بالا کو تمام تر حماقتوں اور غلطیوں کے باوجود معاف کر دیتے ہیں مگر طالب علموں اور ماتحتوں کی معمولی غلطیوں پر سخت سزا دیتے ہیں اور سارا دن موڈ خراب رکھتے ہیں۔ غرض ساس بہو، میاں بیوی، بھائی بھائی، نند بھابھی جھگڑوں کے پیچھے غصہ،اندھے جذبات، مشتعل دماغ اور انا پرستی شامل ہوتی ہے، اگر انسان اس شیطانی جال کو سمجھ کر غصے پر قابو پالے تو نہ صرف مختلف ذہنی و نفسیاتی عوارض سے بچا رہے بلکہ معاشرتی اصلاح میں اپنا کردار ادا بھی ادا کرسکتا ہے۔
غصہ ہماری شخصیت میں قدم رکھتے ہی پہلا کام یہ کرتا ہے کہ وہ ہماری سوچنے، سمجھنے کی صلاحیت کو باہر دھکیل کر سبھی دروازوں پر چٹخنی چڑھا دیتا ہے۔ کہتے ہیں کہ غصہ جہالت سے شروع ہوکر ندامت اور پشیمانی پر ختم ہوتا ہے، حقیقت بھی یہی ہے کہ غصہ ور شخص کے غصے کاطوفان جب ختم ہوتا ہے تو اسے اپنے الفاظ اور رویے پر شدید رنج اور افسوس ہوتا ہے۔ غصہ کی حالت میں چونکہ انسان نارمل نہیں رہتا اس لیے اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں وقتی طور پر مفقود ہو جاتی ہیں اس لیے اندیشہ رہتا ہے کہ ایسا شخص کسی کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

بلڈپریشر، امراض قلب، شوگر اور معدہ کے امرا ض آپ کے انتظار میں

 ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ غصہ ایک نفسیاتی کیفیت کا نام ہے یہ تکبر اور اپنی شخصیت پرعدم اعتماد کی واضح علامت ہے۔ غصہ کی حالت میں انسان کی آنکھیں، کان اور چہرہ سرخ ہو جاتا ہے گردن کی رگیں پھول جاتی ہیں، زبان تیز تیز چلتی ہے، دماغ مائوف ہو جاتا ہے ایسی غیر معمولی حالت میں انسان گالی گلوچ، بہتان طرازی، ہاتھا پائی، مارپٹائی، طلاق، قتل، خودکشی کچھ بھی کرسکتا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے بہت سی جسمانی بیماریاں بلڈپریشر، امراض قلب، شوگر، معدہ کے امراض وغیرہ غصہ کی عادت کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں۔ غصہ ور لوگ معاشرے سے کٹ کر اپنی ضد اور انا کی دنیا میں زندگی گزارتے ہیں کیونکہ ان کے اکھڑ مزاج، طنز و طعنوں بھرے جملوں،نکتہ چینی اور شکی مزاج کی وجہ سے عام لوگ اور اولاد تک ان کے ساتھ بیٹھنے سے گریزاں ہوتی ہے۔

دور جدید میں غصہ اور چڑچڑاپن پیدا ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں بے روزگاری، ناانصافی، مہنگائی، خاندانی رقابت، دفتری و کاروباری جھگڑے اور ذرائع ابلاغ خصوصاً ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے جرائم اور تشدد پر مبنی ڈرامے وغیرہ شامل ہیں۔
تلخ مزاجی اور غصہ درحقیقت اندر کے تکبر اور جھوٹی انا کی نشانیاں ہیں‘ اللہ کے نیک بندے اور علم رکھنے والے لوگ ہمیشہ عاجز مزاج ہوتے ہیں۔ تکبر کا مرض آج کل عام ہے یوں سمجھئے غصہ بیج ہے اور تکبر اس کا پھل یہ تکبر ہی ہے کہ انسان اپنی تعلیم، مرتبے، خاندان، رنگ و نسل، قوت و اقتدار پر فخر کرے اور اپنے آپ کو دوسروں سے بلند و بالا تصور کرے۔
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’تکبر یہ ہے کہ تم دوسروں کو حقیر جانو، ان کے ساتھ ان کے برتنوں میں کھانا پینا برا سمجھو، کوئی تمہیں نصیحت کرے تو ناگوار گزرے، ناک بھوں چڑھائو، تلخ جواب دو، نصیحت کرنے والے کی تذلیل کرو، خود نصیحت کرو تو تند مزاجی سے کرو، غلطی کرنے والے کو ٹوکو تو درشتی کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ کرو اور سیکھنے والے پر نرمی نہ کرو‘‘۔
غصہ پر قابو پانے کے طریقے
(۱)نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ غصہ شیطان سے ہے اور شیطان آگ سے بنا ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے جب کسی کو غصہ آئے تو وہ فوراً وضو کرے (ابودائود)
(۲)غصہ کے آغاز ہی میں اس کے انجام پر غور کرنا شروع کردیں۔
(۳)محض یکطرفہ بات سن کر نہ بھڑک اٹھیں، دوسری طرف کی بات بھی توجہ سے سن کر فیصلہ کریں۔
(۴)اگر کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں، لمبے سانس لیں، پانی کا گلاس پی لیں اور خاموشی اختیار کریں۔
(۵)غصہ کے وقت یہ نہ دیکھیں کہ کون غلط ہے یہ دیکھیں کہ کیا غلط ہے، تیز تیز اور اونچی آواز میں مت بولیں۔
(۶)جسے آپ بدل نہیں سکتے اسے ہنستے ہنستے منظور کرلیں۔نئی نسل کو اپنی طرح سوچنے پر مجبور نہ کریں۔
(۷)دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہ کریں ہر کسی کو اپنے انداز میں جینے کا موقع دیں۔
(۸)ایک نے کہی دوسرے نے مانی، سبھی کہیں دونوں گیانی (سمجھدار) باہمی اختلاف کے وقت نرمی اور ہمدردی کا رویہ رکھیں۔

(۹)جس واقعہ کو رونما ہونے سے ٹالا نہ جاسکے، اسے خدا کی مرضی سمجھ کر قبول کرلیں۔
(۱۰)دوسروں کی اشتعال انگیز باتوں سے جو پہلا خیال، جواب ذہن میں آئے اسے ترک کردیں، یہ شیطانی خیال ہے۔ ہمیشہ دوسرے خیال پر عمل کریں پہلا خیال غصہ کی وجہ سے جبکہ دوسرا خیال عقل و شعور کے تحت ہوگا۔
(۱۱)غرور، بدگمانی، حسد، رقابت، مقابلہ بازی، تجسس اور منفی انداز فکر چھوڑ دیں ، صبر و برداشت اور اللہ کی ذات پر بھروسہ کریں۔
(۱۲)لوگوں کو کھری کھری مت سنائیں، سچ کا فساد نہ پھیلائیں، دل نہ توڑئیے، طنز مت کریں، عفو و درگزر سے کام لیں۔
(۱۳)لاحاصل جھگڑوں، دھمکیوں، گالیوں، الزامات اور فضول بحث سے اجتناب کریں اگر دوسرا فریق غصہ میں ہے تو اس سے ہمدردی کریں جب غصہ ٹھنڈا ہوگا تو وہ اپنی غلطی مان لے گا، آپ غصہ میں آکر جلتی پر تیل کا کام نہ کریں۔
(۱۴)مختلف معاملات میں لاتعلقی اور غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں۔ غلطیوں پر سزا مت دیں معاف کرنا سیکھیں، اللہ تعالیٰ کے فرشتے غلطیاں، قصور، جرم و گناہ نوٹ کرتے رہتے ہیں، قانون مکافات عمل کے تحت انہیں سزا بھی دی جاتی ہے۔
(۱۵)زندگی کے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی مرضی و منشاء کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ عرض غصہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی مستقل تدبیر یہ ہے کہ انسان یہ سوچے کہ اللہ تعالیٰ کتنا مہربان ہے کہ روزانہ بے شمار نافرمانیاں معاف کر دیتا ہے چنانچہ رضائے الٰہی کے حصول کی خاطر دوسروں کو معاف کردینا چاہیے۔ یاد رکھیے! غصہ شیطان کا زبردست ہتھیار ہے جس سے وہ انسانی معاشرے میں فتنہ و فساد پھیلاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے معاملات غصہ، گرمی اور اشتعال کی بجائے محبت ، نرمی اور برداشت سے طے کریں۔

Ubqari Magazine Rated 5 / 5 based on 733 reviews.