محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! میں آپ کو زندگی میں پہلی بار خط لکھنے کی جرأت کررہی ہوں اور یہ بات سچی ہے بلکہ یہ کہانی نہیں حقیقت ہے جو میں بیان کرنے جا رہی ہوں یہ کنڈیارو شہر کے ایک گھرانے کی بات ہے جب یہ منظر عام پر آئے گی تو پڑھنے والوں میں سے کسی ایک نے بھی نصیحت حاصل کرلی تو یہ میرے لیے اللہ کا کرم ہوگا۔ یہ ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی ہے میں ان کانام ظاہر نہیں کرنا چاہتی جب انکی شادی ہوئی تو وہ دونوں میاں بیوی بہت خوش تھے پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں اولاد کی نعمت سے نوازا انکے پانچ بچے تھے جن میں سے تین کا انتقال ہوگیا دو حیات ہیں اللہ انہیں زندگی دے۔ کافی عرصہ گزر گیا شادی کو ان کے شوہر کے کسی دوسری عورت کے ساتھ تعلقات بنے‘ اس عورت نے ان کی بیوی کو طلاق دلوا کر خود اس سے شادی کرلی اور دونوں بچوں کو بھی اپنے ساتھ رکھ لیا۔ اب وہ عورت بھی روایتی سوتیلی ماں ثابت ہوئی‘ ان د ومعصوم بچوں پر بہت ظلم کرتی‘ ان کو گھر میں برداشت نہ کرتی تھی۔محلے والے سارا دن بچوں کی چیخیں سنتے۔ محلے کے چند معززین نے بیٹے کو قریبی مدرسہ میں داخل کروا دیا کہ وہاں تعلیم بھی حاصل کرتا رہے اور سوتیلی ماں کے ظلم سے بھی محفوظ رہے۔ جبکہ بیٹی اپنی سوتیلی ماں کے پاس ہی رہتی تھی۔وہ بچی صرف آٹھ یا نوسال کی تھی‘ سوتیلی ماں اس سے پورے گھر کا کام لیتی‘ جھاڑو‘ برتن، کپڑے دھونا، باتھ روم کی صفائی ‘ جب بچی سے ذرا سی غلطی ہوجاتی تو پورا محلہ بچی کی سسکیاں آہیں اور چیخیں سنتا۔ کئی مرتبہ ساتھ والے گھر سے خواتین آکر بچی کو اس ظالم سے چھڑواتیں اور اسے خدا کا خوف دلاتیں مگر اس عورت کے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔ جب اسے محسوس ہوا کہ اس کی چیخیں سن کر محلے دار آجاتے ہیں تو اس نے ظلم کا نیا طریقہ ایجاد کیا‘ جب بھی بچی کو مارتی پہلے اس کے ہاتھ باندھتی پھر اس کے منہ میں کپڑا ٹھونس کر مارتی تاکہ کسی کو آواز نہ پہنچے‘ چمچ گر م کرکے اس کی نازک جلد کو جلاتی۔ کھانے کیلئے صبح و شام صرف آدھی روٹی اور بچا ہوا سالن اس کےآگے پھینکتی۔ شدید سردی میں زمین پر سلاتی‘ ٹھنڈ میں گرم بستر تک نہ دیتی۔اس کا والد سب کچھ دیکھ کر بھی نجانے کیوں خاموش تھا۔ خود کا حال یہ تھا کہ جدید سے جدید فیشن‘ ہردوسرے دن شوہر کے سامنے گھومنے نکل جاتی‘ جس وقت اس کی ماں گھر نہ ہوتی ہمسائی بچی اکثر پیٹ بھر کھانا فراہم کرتی۔اعلیٰ سے اعلیٰ برانڈز کے سوٹ پہنتی‘ گلے میںسونے کی چین‘ بازوؤں میں کنگن اور ہاتھوں میں انگوٹھیاں۔ اس بیچاری بچی کیلئے لنڈے سے کپڑے لاتی یا کسی رشتہ دار کو کہہ دیتی کہ اپنے بچوں کے بچے ہوئے کپڑے مجھے دے دیا کرو تاکہ میں اس بچی کو پہناسکوں۔
باپ سب کچھ دیکھتے ہوئے پروا نہ کرتا۔مگر رب کریم نے انصاف فرمادیا۔ وہ عورت آج تک اولاد کی نعمت سے محروم ہے‘ شہر کے مشہور ترین معالجین سے علاج کرواتی ہے‘ مہنگی سے مہنگی ادویات ‘ ٹیسٹ کرواتی ہے مگر سب ناکام۔ اللہ پاک نے فرمایا جو میرے بندوں پر رحم نہیں کرتا میں اس پر رحم نہیں کرتا۔ جیسی کرنی ویسی بھرنی ‘خدارا کسی کا ہنستا بستا گھر مت برباد کریں اور میری اپنی بہنوں اور بھائیوں سے گزارش ہے کہ خدا کےلیے اپنے گھروں کو مت برباد کریں اور اپنے خوشحال گھروں کو مت اجاڑیں کیونکہ خدا سب دیکھتا ہے کسی معصوم کے ساتھ ناانصافی مت کریں ورنہ دنیا میں تو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہو گے اور اپنی آخرت بھی خراب کرو گے لیکن آخر میں اتناضرور کہوں گی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ رب دکھاتا ہے مگر پھربھی لوگ سمجھتے نہیں۔(بنت عمر دین، کنڈیارو)
حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی (دامت برکاتہم) فاضل طب و جراحت ہیں اور پاکستان کونسل سے رجسٹرڈ پریکٹیشنز ہیں۔حضرت (دامت برکاتہم) ماہنامہ عبقری کے ایڈیٹر اور طب نبوی اور جدید سائنس‘ روحانیت‘ صوفی ازم پر تقریباً 250 سے زائد کتابوں کے محقق اور مصنف ہیں۔ ان کی کتب اور تالیفات کا ترجمہ کئی زبانوں میں ہوچکا ہے۔ حضرت (دامت برکاتہم) آقا سرور کونین ﷺ کی پُرامن شریعت اور مسنون اعمال سے مزین، راحت والی زندگی کا پیغام اُمت کو دے رہے ہیں۔ مزید پڑھیں