Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- خاص تبدیلی اہم نوٹ: پہلے ہرماہ مغرب کے بعد حلقہ کشف المحجوب اور مراقبہ ہوتا تھا مگر اب صبح کے وقت اسم اعظم کے دم کے فوراً بعد ہوا کرے گا تاکہ مسافر سہولت سے گھروں کو واپس جاسکیں ۔۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

ہائی بلڈپریشر اور جادو اثر دوا کا تحفہ


ہائی بلڈپریشر اور جادو اثر دوا کا تحفہ (حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی ۔ایڈیٹر عبقری ) سر گو دھا کے قریب پھاگٹا نوالہ کے نیک سیرت صاحب مجھے اکثر ملنے تشریف لاتے ہیں سفید ریش بزرگ اپنے نام کے ساتھ بلو چ لکھتے ہیں واقعی دلچسپ اور لاجواب طبیعت کے مالک ہیں۔ ان سے شناسائی کچھ اس طرح ہو ئی ان کے میرے پاس خط آئے کہ میں آپ کے مضامین پڑھتا ہو ں اور ان نسخہ جات کو تیار کر کے مریضوں کو دیتا ہو ں اور مر یض بہت جلد ی صحت یا ب ہو تے ہیں۔ بلو چ صاحب ایک دفعہ گو لیا ں بنا کر لا ئے اور کہنے لگے ہمارے علاقے میں ایک حکیم ہیں وہ ہا ئی بلڈپریشر کی دوا ئی دیتے ہیں واقعی جا دو اثر گولیا ں ہیں۔ صر ف 2منٹ میں یہ دوائی اثر کرتی ہے اور مریض شفا یاب ہو جاتے ہیں۔ لیکن مجھے سر گو دھا کے ان حکیم صاحب سے یہ گو لیا ں لا نی پڑتی ہیں اور نسخہ کے بارے میںلا علم ہو ں۔ مزید کہنے لگے اگر آپ اپنے پیڈپر تحریر لکھ دیں تو وہ آپ کے تعلق اور تعارف کی وجہ سے وہ نسخہ لکھ دیں گے۔ میں نے رقعہ لکھ دیا واقعی حکیم صاحب نے مہر بانی فر مائی اور نسخہ من وعن عنایت فرما دیا۔ ا س سے قبل یہ نسخہ پیش کیا جائے اسکے ضمن میں کچھ واقعات پیش خدمت ہیں۔ یہ واقعات کہاں ملتے ہیں ان کے ما خوذ تین ہیں۔ (۱ ) جن مر یضو ں کو یہ ادویات استعمال کرا تا ہو ں وہ بالمشافہ اپنے فوائد بتا تے ہیں۔ (۲) بلا کم و کاست میں اپنے نسخہ جات اور فا رمو لے دوسرے حکیموں ، ڈاکٹروں کو کھلے دل سے بتا تا ہو ں تاکہ افادہ عام ہو وہ پھر اس کے بے شمار تجربات بتا تے ہے۔ (۳) مضامین میں نسخہ جات لکھتا ہوں توان مضامین کو پڑھنے کے بعد لو گ ادویات بناتے ہیں یا مجھ سے منگو ا لیتے ہیں اور پھر ان کے استعمال کے بعد اپنے رزلٹ تجربات اور مشاہدات بیان کر تے ہیں اور وہ تما م تجربات جو بالمشافہ ٹیلی فو ن یا موبائل کے ذریعے یا خطوط کے ذریعے ملتے ہیں وہ تمام آپ حضرات تک پہنچا دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کمی بیشی معاف فر مائے۔ سب سے پہلے جن حضرات نے مجھے یہ فارمولا اور تجربہ بتا یا کچھ انکے واقعات پیش خدمت ہیں پھر اپنے واقعات تجربات اور مشاہدات عرض کر وں گا۔ سب کھانے کے مریض ہیں: ان تجربات سے قبل عر ض یہ ہے کہ آج کے اس پریشان دو ر میں فشا رالدم قوی یعنی ہا ئی بلڈ پریشر بہت ہی زیادہ پھیلا ہوا اس کے اسباب دراصل پر یشانی اور بے چینی کی زندگی ہے۔ اس مشینی دوڑ نے اوپر سے لے کر نیچے تک ہر شخص کو پریشان کر رکھا ہے۔معا شی پر یشانی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ غذائی بدپر ہیزی نے بھی اپنا کام خو ب دکھایا۔ اس ضمن میں ایک وا قعہ چشم دید آپ کی خدمت میں پیش ہے۔گو مل یو نیورسٹی ڈیرہ اسما عیل خان کے وائس چانسلرایک دو اورصاحبان کے ساتھ حکیم محمد سعید شہید کی خدمت میں پہنچے۔ حکیم صاحب حسب معمول مر یض دیکھ رہے تھے۔ ان صاحب نے سوال کیا کہ حکیم صاحب یہ کس مر ض کے مر یض ہیں؟ حکیم محمد سعید شہید (ہمدرد والے ) ٹھنڈی سانس بھر کر فرمانے لگے جتنے یہ مر یض ہیں، جتنے پہلے تھے اور جو بعد میں آئیں گے وہ سب کھانے کے مر یض ہیں یعنی بے وقت کھانے پر کھانا اور زیادہ کھانے سے یہ حال ہو اکہ ان کو بے شماربیماریوں نے گھیر لیا اور طر ح طرح کی رنگ بر نگی ادویات سے انکا تعارف ہوا۔مصنو عی غذائی زندگی نے دل اور معدہ کو متا ثر کیا ہے۔ وہ کیا دور تھا کہ جب لوگ تازہ اور قدرتی غذا کھا تے تھے۔ پیدل چلتے تھے اسوقت کیا دل کے امراض اتنے تھے؟ بہر حال آپ سے چونکہ اس وقت ہا ئی بلڈ پریشر کے نسخے کے متعلق مشاہدات عرض کر نے ہیں۔ لیکن نسخہ کے ساتھ ساتھ پر ہیز بھی لا زم ہو تا ہے اور احتیا طیں بھی بہت ہو تی ہیں تو اس لیے انہی احتیا طو ں کو ملحوظ رکھیں، دوائی میں فائدہ ہوگا۔ جوانی میں بلڈپریشر کامریض: ایک مر یض عمر47 سا ل عر صہ دراز سے ہا ئی بلڈ پریشرمیں مبتلا ہو ئے پہلے تو علامات کا علم نہ ہوا لیکن پھر ایک دن ایک ڈاکٹر کو دکھا یا تو پتہ چلا کہ ہا ئی بلڈپریشر ہے اور انہوں نے پر ہیز اور غذا کے ساتھ ہی دوا تجویز کر دی۔دوائی کھانے سے افاقہ ہوا لیکن وقتی افاقہ ہوا۔ انہوں نے جوتجربہ بیان کیا وہ یہ ہے کہ اس دوائی کے بعد وقتی فائدہ تو ہوا کیونکہ دوا روز کھانی پڑتی تھی لیکن تین غلط اثرات بھی جسم پر پڑے۔ پہلا اثریہ ہے اعصابی کمزوری ،ڈھیلا ڈھیلا جسم، بے طاقتی اور بے قوتی پیدا ہو ئی۔ دو سر ا نقصان قوت خاص ختم ہو گئی اور تیسرا نقصان یہ ہو اکہ نسیان یعنی بھولنے کا مر ض شروع ہوا۔ حاجی صاحب فرمانے لگے کہ میں نے یہ گولیاں بنائی ہو ئی تھیں اس کو توجہ سے کھانے کی تاکید کی۔ صرف دو دن کے اندر بلڈ پر یشر کنٹرول اور جسم نارمل ہو گیا۔ حالات بہتر اور جسم میں طاقت محسوس ہو نا شروع ہو گئی۔ ویسے جس وقت بلڈ پریشر کا دورہ ہو تو اسوقت صرف دوگولیاں کمال دکھاتی ہیں۔ بچے مار سے بچ گئے: ایک سکول ما سٹر صاحب بچو ں کو بہت مارتے تھے۔کئی دفعہ ہیڈ ماسٹر نے ان کی سرزنش کی، سمجھایا ،آ ج وہ دور گزر چکا ہے جب بچوںکو مارتے ہو ئے والدین بھی خوش ہو تے تھے اور بچے بھی اسے اپنی ضرور ت سمجھتے تھے۔ لیکن ماسٹر صاحب کو یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی اور وہ جب غصے میں آتے تو انہیں کسی قسم کا ہو ش نہیں رہتا تھا اور بے تحاشا بچو ں کو مارتے تھے۔ بعض بچو ں کی نکسیر پھو ٹ جا تی اور بعض بچے زخمی ہو جاتے تھے۔ آخر کا رایک دن ایک بچے کے والد مجھ سے دوائی لینے آئے کہنے لگے مجھے لگتا ہے کہ ماسٹر صاحب کو ہا ئی بلڈ پریشر کا مرض ہے۔ مجھے اس لیے پتہ چلا کہ میرے بڑے بھائی صاحب کی حالت بھی ایسی تھی، آپ کی گولیوں سے انہیں افاقہ ہوا تھا۔ میں نے ان کی بات سن کر کہا کہ ما سٹر صاحب کو بلڈ پریشر ہے میں نے انہیں یہ گولیاں دیں اور صر ف ایک ہفتہ کھانے کی تاکید کی۔ ماسٹر صاحب نے چند روز گو لیا ں کھا کر چھوڑ دیں اور پھر نہ کھائیں لیکن بچے کا والد بتا نے لگا کہ ما سٹر کے بقول مر یض بالکل تندرست ہو گیا ہے اور بچو ں کی شامت بھی نہیں آتی۔ اصل مرض بلڈپریشر تھا: ہمار ے گائو ں کا ایک غریب بیچارہ بوڑھا ہو گیاتھا۔ سانس کی تکلیف تھی ساری عمر محنت مزدوری کر تا رہا اب چلنے سے بھی معذور ہو گیاتھا۔ کئی جگہ حسب تو فیق علا ج معالجہ کیا لیکن فائدہ نہ ہوا۔ آخر کا ر ایک دن میرے پاس سانس کی دوائی لینے آیا کہ میں چل پھر نہیں سکتا‘ مجھے دمہ ہے اور سانس پھو ل جاتا ہے میں نے جتنی بھی گرم دوائیں کھائی ہیں، بالکل فائدہ نہیں ہوا۔ میں نے اپنی تو جہ اورتجربے کے مطابق تشخیص کیا کہ اس مریض کو دراصل بلڈ پریشر کی تکلیف ہے جس کی وجہ سے دل کمزور ہو گیا ہے اور اس لیے اس کا سانس پھو لنا شروع ہو جاتا ہے۔ میں نے اسے بتا یا نہیں کیونکہ اس کے دل میں یہی چیزپکی ہو چکی تھی کہ اسے دمہ ہے اور وہ اب تک دمہ کا علاج کر تا رہا تھا لہٰذا میں نے اسے دوائی یعنی بلڈ پریشر کی گولیا ں استعمال کر نے کے لیے دیں اور مصالحہ دار گرم تلی ہوئی اور نمکین چکنائی والی غذائیں کھانے سے پرہیز بتایا۔ صرف پا نچ یوم کے ا ستعمال سے مریض نے بتا یا کہ اب وہ حاجت کے لیے گھر سے تقریبا8ایکٹر دور چلا جاتا ہے پہلے اسے گھر کے صحن میں چلنا بھی دشوار تھا۔ میں نے اسے مزید دوائی کھانے کی تاکید کی۔ دیارغیر میں بھی لوہا منوایا: حاجی صاحب بتا نے لگے کہ ہمارے گائوں میں ایک شادی تھی، خوب شور شرابا اور کھانے پکے۔ ان کے ایک مہمان جو کہ عر صہ دراز سے ولایت (یہ لفظ حاجی صاحب نے استعمال کیا جب تحقیق کی تو پتہ چلا مو صو ف تقریبا گزشتہ 27سال سے اوسلو ناروے )رہتے تھے۔ موسم کچھ گرم تھا اورپھر خاص طورپر شادی کا خوب مصالحہ دار چٹ پٹا کھانا انہیں کھانا پڑا۔ مو صوف پہلے ہی سے شوگر، ہائی بلڈ پریشر کے مر یض تھے اور اپنی ادویات ساتھ لائے تھے اوریہاں تین دن کے لیے تشریف لا ئے تھے۔ چو نکہ قریبی پڑوسی تھے اس لیے وہا ں تقریب میںمیرا حا ضر ہو نا لازم تھا۔ حاجی صاحب کہنے لگے کہ میں نے اس ولایت والے مہمان کا پوچھا کہ وہ کہاں ہے ؟پتہ چلا کہ وہ بیمار ہو گئے ہیں اور آرام کر رہے ہیں۔میں تقریب کے بعد میں ان سے ملا۔ مجھے ملے بڑی محبت سے حال احوال پو چھا تو پتہ چلا کہ موصوف ہا ئی بلڈ پریشر کے پرانے مریض تھے۔یہاں چونکہ مہمان تھے اور شر ما شرمی میں جو غذا اور کھانا ملتا وہ کھانا پڑا جس کی وجہ سے ان کی طبیعت خراب ہو ئی۔ انہو ں نے اپنے ساتھ ادویات رکھی ہو ئی تھیں۔ وہ استعمال کیں فائدہ نہ ہوا ،پھر اس دوا کی مقدار بڑھائی لیکن فائدہ نہ ہوا۔ کچھ دیر کے بعد مشورہ یہی ہوا کہ ان کو واپس لا ہور بھجوانا ہے اور کسی ڈاکٹر سے چیک اپ کرا نا ہے۔ میں نے ان سے عر ض کیا کہ آپ بڑ ے لو گ ہیں ،میں ایک عام سا ا?دمی ہوں کوئی مستند حکیم بھی نہیں ہو ں۔ اگر ایک دوائی آپ کو دو ں اور ہر 3گھنٹے کے بعد آپ دو دو گولیاں عام پانی کے ساتھ لیں۔ اگر صبح تک ا?پ تندرست ہو جائیں تو شادی گزار کر جائیں ورنہ آ پ ضرور چلے جائیں۔ پہلے وہ صاحب کچھ ہچکچائے کہ شاید کوئی کشتہ یا زہر ملی دوائی تو اس میں ملی ہو ئی نہیں۔ میںنے انہیں یقین دلوایا کہ اس میں کسی بھی قسم کے ایسے کو ئی اجزاء نہیں ہیں۔ میں نے دوگولیا ں اپنے سامنے کھلا دیں اور مزید گو لیا ں تین گھنٹے کے بعد پانی سے ضرور استعمال کی تاکیدکر کے آگیا۔ صبح کی نماز پڑھ کر انکی طبیعت پو چھنے چلا گیا۔(جاری ہے)