Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- خاص تبدیلی اہم نوٹ: پہلے ہرماہ مغرب کے بعد حلقہ کشف المحجوب اور مراقبہ ہوتا تھا مگر اب صبح کے وقت اسم اعظم کے دم کے فوراً بعد ہوا کرے گا تاکہ مسافر سہولت سے گھروں کو واپس جاسکیں ۔۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

ڈینگی بخار اور بابا جی کے تجربات


ڈینگی بخار اور بابا جی کے تجربات (حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی (پی ۔ ایچ ۔ ڈی : امریکہ) ایڈیٹر : عبقری ) تقدیر ہر چیز پر غالب ہے: پچھلے سال ڈینگی کی تباہ کاریاں اور اموات نے کتنے گھرانوں کو ویران‘ کتنی سہاگنوں کو بیوہ اور کتنے بچوں کو یتیم کردیا۔ تقدیر بہرحال تقدیر ہے اور اللہ تعالیٰ ہرچیز پر غالب ہے۔ باباجی کی تین شرائط: جی چاہتا ہے پچھلے سال کے کچھ تجربات اور اس سے پہلے کے تجربات آپ کی نذرکروں تاکہ مخلوق خدا کو نفع پہنچے اس سے پہلے کہ تجربات آپ کے سامنے پیش کروں بہت ایک پراناواقعہ آپ کو سنادوں۔ ہوا یہ کہ چونکہ مجھے گھر سے طب و تحقیق کا مزاج اور ماحول ملا تھا جمعہ کے دن چھٹی ہوتی تھی۔ مجھے سکول جانا نہیں ہوتا تھا تو اس لیے پرانے کپڑے پہن کر ہاتھ میں پرانا سا تھیلا لے کر میں کھیتوں‘ دیہاتوں اور جنگلوں میں جڑی بوٹیوں کی تلاش میں نکل جاتا۔ ایک بابا جی کا پتہ چلا کہ اس کی تین شرائط ہیں ایک تو بہت سارا حلوہ کھاتا تھا جس میں میٹھا تیز ہو‘ دوسرا ساٹھ روپے پورے دن کے لیتا ہے اور تیسرا اس کا سامان اٹھائیں خدمت کریں‘ خوشامد کریں اور اس کے ناز نخرے برداشت کریں۔ مجھے یہ شرائط منظور ہیں: مجھے یہ تینوں شرائط منظور تھیں اپنا فارغ وقت جڑی بوٹیوں کی تلاش میں گزارتا۔ ایک دفعہ میں ایک گندے نالے کے کنارے ایک قیمتی بوٹی کو جڑ سمیت اکھیڑ رہا تھا۔ میرے والد صاحب رحمہ اللہ علیہ کے جاننے والے ایک صاحب ملے پہچان کر کہنے لگے کہ بیٹا کیا کرو گے؟ میں نے ان سے عرض کیا یہ بوٹی پرانے بخاروں اور خاص طور پر ایسے بخاروں جن کا تعلق چھوت یا وائرس سے ہوتا ہے یا پھر ایسے بخار جو کسی علاج اور دوا سے نہیں جاتے‘ ان کیلئے یہ بوٹی کسی تریاق اور کامل علاج سے کم نہیں۔ باباجی کی زندگی کے انوکھے راز: انہی صاحب نے مجھے اس باباجی کا بتایا کہ فلاں شہر کی جامع مسجد کے نیچے ایک باباجی ہیں‘ ان کی مذکورہ بالا تین شرائط ہیں باقی وقت وہ سارا دن آلو بیچتے ہیں اگر آپ ان سے مل لو تو آپ کا یہ شوق پورا ہوجائے گا۔ ایک دن صبح صبح اماں رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ سے میں نے بہت سارا حلوہ پکوایا۔ ایک تھرماس میں تیزپتی کی چائے بنوائی اورکپ ساتھ لیا۔ اپنے پرانے تھیلے میں وہ ڈالا بس پر بیٹھا اور بابے کے پاس پہنچ گیا۔ بابا ابھی اپنی دکان پر آیا نہیں تھا میں انتظارمیں بیٹھا رہا‘بابا آیااور سخت مزاجی سے مجھے مخاطب کیا۔ میں نے اپنا مدعا بیان کیا۔ کہنے لگا تجھے پتہ ہے… ابھی اس کا لفظ منہ میں ہی تھاکہ میں نے کہا حلوہ بھی لایا ہوں تیز میٹھا والا‘ تیز پتی کی چائے بھی لایا ہوں‘ ساٹھ روپے بھی لایا ہوں اور خدمت کیلئے حاضرہوں۔ کہنے لگا واہ بیٹا واہ…!!! تجھے ان باتوں کا پتہ کیسے چلا تو نے تو خوش کردیا۔ اچھا اب بتا کیا چاہتا ہے۔ میں نے کہا جڑی بوٹیاں… کتابوں میں تو پڑھی ہیں وہ کتابوں والی دھرتی میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس نے اپنا کام اپنے بیٹے کے ذمے لگایا اور میرے ساتھ چل پڑا۔ ہمیں جنگل میںسارا دن پیدل چلنا تھا۔ ویسے بھی مجھے پیدل چلنے کا ابھی تک شوق ہے۔ ہم سارا دن چلتے رہے وقتاً فوقتاً باباتھک کربیٹھ جاتا‘ وہ مٹھیاں بھر کر حلوہ کھاتا۔ چائے کا کپ پیتا‘ ڈکار لیتا اور پھر چل پڑتا۔ جگہ جگہ بوٹی توڑتا‘ دکھاتا یہ فلاں بوٹی ہے‘ نر بھی ہوتا ہے مادہ بھی ہوتا ہے‘ اس کی اتنی قسمیں ہیں‘ فلاں قسم کا پھول چھوٹا‘ فلاں قسم کا پھول بڑا‘ گلابی یا سرخ ہوتا ہے۔ قارئین! آپ یقین جانیے جو تشخیص مجھے زندہ بوٹی سے ملی‘ وہ تصویر سے نہ مل سکی۔ باباجی کی میں نے خدمت کی۔ دوپہر کو بیٹھے‘بابا نے سگریٹ پیا‘ میں ان کے پائوں دبانے بیٹھ گیا۔ میرے حلوے‘ چائے‘ خدمت اور دیہاڑی نے بابے کو خوش کردیا۔ ہمارا دل لگ گیا‘ مجھ سے پوچھنے لگا‘ آئندہ جمعہ آئوگے۔ میں نے کہا ضرورآئونگا۔ چند بیج کھائے اور تمام تھکن اتر گئی: قارئین! پھر یوں کئی سفر میں نے اس بابے کے ساتھ کیے۔ یہ بہت سال پرانی بات ہے۔ نامعلوم زندہ ہے یا فوت ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ اس کے درجات کو بلند فرمائے۔ اسی سفر کے دوران ایک بوٹی باباجی نے مجھے دکھائی۔ کہنے لگے اس کو تلسی کہتے ہیں اور ہندو اس کی پوجا کرتے ہیں۔ اس لیے بعض ہندوئوں کا نام تلسی رام بھی ہوتا ہے۔ اس کے بیج باریک اور اس کی ایک اور قسم ہوتی ہے جسے نیازبو یا پبری بھی کہتے ہیں جو عام گھروں میں لگائی ہوئی ہوتی ہے۔ کہنے لگے اس کے بیج ہروہ بخار جو کسی دوا علاج ویکسین‘ انٹی بائیوٹک اور دنیا کی آخری قیمتی دوا سے نہ جاتا ہو اس کیلئے آخری علاج ہے۔(جاری ہے)