Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- خاص تبدیلی اہم نوٹ: پہلے ہرماہ مغرب کے بعد حلقہ کشف المحجوب اور مراقبہ ہوتا تھا مگر اب صبح کے وقت اسم اعظم کے دم کے فوراً بعد ہوا کرے گا تاکہ مسافر سہولت سے گھروں کو واپس جاسکیں ۔۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

غربت اور مفلسی


(حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی (پی ۔ ایچ ۔ ڈی : امریکہ) ایڈیٹر : عبقری ) بندہ کا ایف ٹین فور عرصہ دراز سے آنا جانا ہے۔ چونکہ اسلام آباد کے نہایت مالدار سیکٹر میں اس کا شمار ہوتا ہے اور وہاں کا طرز زندگی ویسے بھی مختلف ہے۔ یہ طرز زندگی میرا موضوع نہیں لیکن چند واقعات جو میرے دل پر نقش ہیں عرض کرتا ہوں۔ ایک بار میں ملک صاحب کے گھر سے نکلا سامنے کوڑے کا کنٹینر تھا ایک صاحب غور سے کسی چیز کو بڑی احتیاط سے صاف کر رہے تھے میں ٹھہر گیا اور عجیب منظر دیکھا ایک نہایت غریب بوڑھا سینڈوچ نکال کر انہیں صاف کر رہا تھا چونکہ اس نے کھانے تھے۔ پھر اسی طرح ایک دفعہ وہیں ایک اور صاحب کو دیکھا وہ ایک ٹماٹروں کا شاپر جس میں گلے سڑے ٹماٹر تھے اور وہ ان کو استعمال کے لئے محفوظ کر رہا تھا۔ایک شخص اپنے دونوں ہاتھوں سے جلانے کے لئے لکڑیاں لادے جا رہا تھا حالانکہ اس شہر میں سوئی گیس کی سہولت موجود تھی۔ میں نے ان سے پوچھا کتنے کی لکڑیاں لی ہیں بے ساختہ کہنے لگے چھ روپے کی۔ ایسی دوا دیں جس سے بھوک کم لگے: ایک خاتون دوائی لے گئیں لیکن کچھ عرصے کے بعد آئیں کہنے لگی فائدہ ہوا لیکن یہ دوائی نہ دیں پوچھا کیوں کہنے لگی بھوک زیادہ لگتی ہے پھر تو اچھی بات ہے صحت و تندرستی کے لئے یہ چیز ضروری ہے کہنے لگی نہیں ایسی دوائی دیں جس سے بھوک زیادہ نہ لگے کہ میرے پاس اتنے کھانے کی رقم نہیں ہے۔ بندہ ایک گلی سے گزر رہا تھا گلی میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان تھی ایک شخص نے ۳ روپے کی چینی لی غالباً اتنے روپے کا گھی لیا آٹے کی چھوٹی تھیلی کی قیمت دریافت کی لیکن اس کی جیب نے اس چیز کی اجازت نہ دی اور بوجھل قدموں کے ساتھ وہ واپس چلا گیا اور میں دل ہی دل میں یہ منظر دیکھتا رہ گیا۔ ایک شخص فیصل آباد سے تشریف لائے کہنے لگے کہ کرایہ نہیں تھا گھر کے برتن بیچ کر آپ سے ملنے حاضر ہوا ہوں۔ قارئین! یہ چند واقعات جو مجھے سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں کبھی آپ نے بھی سوچا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے کتنے انعامات سے نوازا ہے اور کتنی رزق کی بارش ہے۔ میرا مشورہ ہے روزانہ بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر غور کریں‘ کیا آپ حسن وجمال یا کسی اور کمال میں دوسری مخلوق سے بڑھ کے ہیں۔ ایسا اگر نہیں تو پھر آپ بھی ویسے ہو سکتے ہیں کہ چونکہ کھانا نہیں اس لئے بھوک زیادہ نہیں لگنی چاہیے۔ کہیں آپ ناشکری تو نہیںکررہے؟ ایک خاتون کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں ابھی چند ماہ قبل فوت ہوئی ہے۔ کہ اس کے بیٹے اسے چھوڑ گئے اور بے بسی اور بے کسی کی زندگی گزر رہی تھی۔ چارپائی کاٹی ہوئی تھی وہیں حاجت کر لیتی تھی حتیٰ کہ بے بسی کا عالم یہ تھا کہ ایک کتے کا چھوٹا سا بچہ اس کی چارپائی کے نیچے آکر مر گیا اور متعفن ہوگیا اسے کسی نے اٹھا کر باہر نہ پھینکا۔ آپ سوچیں کہ واقعی آپ غریب ہیں تو پھر اتنا بتائیں کیا آپ ان تمام لوگوں سے کم تر ہیںیا پھر آپ اتنے بیمار ہیں کہ اس خاتون سے بھی زیادہ لا چار ہیں اگر ایسا ہرگز نہیں تو پھر کہیں آپ ناشکری تو نہیں کر رہے اور جو ملا ہے وہ سب کچھ کہیں چھین نہ لیا جائے۔ اعتراضات کے چند نقصانات (حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی (پی ۔ ایچ ۔ ڈی : امریکہ) ایڈیٹر : عبقری ) اعتراض بعض لوگوں کے مزاج میں اور کم لوگ ایسے ہیں جو امت کے ہر فرد کے ساتھ درگزر کا معاملہ کرتے ہیں۔ اعتراض کے نقصانات کیا ہیں چند واقعات ملاحظہ فرمائیں۔ بندہ کے آبائی گھر کے قریب ایک کمپونڈر ڈاکٹر رہتے ہیں اور کلینک بھی قریب ہے۔ چند بار ان سے ملنے اور ان کے پاس بیٹھنے کا اتفاق ہوا کہ راہ گزرنے والے تک کو معاف نہیں کرتے حالانکہ اس راہ گزرنے والے سے دور کا واسطہ تک نہیں ہو گا لیکن اس بندہ خدا پر کوئی نہ کوئی اعتراض ضرور ہوگا۔ ان کے پاس کوئی بیٹھا پھر اٹھ کر گیا تو وہ زبان جو پہلے اس کی تعریف کر رہی تھی وہی زبان اس کی غیبت اور اعتراض میں لگ جائے گی۔ اس طرح کے کچھ اور لوگوں کو بھی جانتا ہوں پھر اس کا انجام کیا ہوا۔ وہ ڈاکٹر صاحب کسی نہ کسی مرض اور آسمانی‘ زمینی آفت میں ضرور مبتلا رہتے یں۔ بیماری‘ معاشی پریشانی‘ تنگ دستی ہر وقت اس کا ساتھ رہتے ہیں۔ بعض اوقات اچانک بے ہوش ہو جاتے ہیں‘ کچھ علم نہیں ہوتا کہ مرض کیا اور تکلیف کیا ہے۔ ایک بزرگ صفت نے اس کی وجہ بتائی کہ یہ ہر شخص پر اعتراض کرتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے زندگی سے چین‘ سکون‘ برکت اور عافیت چھین لی ہے جو بھی حادثات ہمیں نظر آرہے ہیں وہ دراصل اسے برے دل کا … ہیں جو دل میں وہ عالم ہیں۔ اعتراض کرنے والا خوشیاں نہیں غم بانٹتا ہے: میرے پڑوس میں ایک صاحب شکایتی مزاج رکھتے ہیں انہیں ہر شخص سے اعتراض ہے یا پھر وہ کسی نہ کسی کے خلاف درخواست دیتے رہتے ہیں۔ لوگ پریشان کہ اس کا کیا حل ہے یقین جانیے وہ خوشیاں نہیں بانٹتا بلکہ دکھ اور کانٹے بکھیرتا ہے۔ یہ عظام زیادہ عرصہ نہیں چل سکتا آخر کار انجام بد ہی ہوتا ہے وہی ہوا جس کا خطرہ تھا وہ سالہا سال اپنی روش پر ڈٹے رہے‘ ہر شخص کو تنقید اور اعتراض کا نشانہ بناتے رہے اور پھر قہقہے مار کر اپنے کارنامے سناتے قریب اور دور والا ہر شخص ان سے اندرونی طور پر شاکی لیکن شر سے بچنے کے خوف کی وجہ سے ان کی ہاں میں ہاں ملاتے۔ اب مشکلات مسائل امراض اور علل ان کے اردگرد منڈلا نے لگے ایک مشکل سے نکلے تو دوسری جب دوسری سے نکلے تو تیسری میں حتیٰ کہ دماغی نظام اوٹ ہو گیا اور معاشرے پر بوجھ بن گئے۔ہم اپنا موازنہ کریں کیا ہم بھی معاشرے پر بوجھ بننا چاہتے ہیں یاخوشبو‘ فیصلہ آب خود کریں۔ (www.ubqari.org) ٭…٭…٭