Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- خاص تبدیلی اہم نوٹ: پہلے ہرماہ مغرب کے بعد حلقہ کشف المحجوب اور مراقبہ ہوتا تھا مگر اب صبح کے وقت اسم اعظم کے دم کے فوراً بعد ہوا کرے گا تاکہ مسافر سہولت سے گھروں کو واپس جاسکیں ۔۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

نظر بد کا تیر


نظر بد کا تیر (حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی (پی ۔ ایچ ۔ ڈی : امریکہ) ایڈیٹر : عبقری ) قارئین! صدیوں سے نہیں بلکہ ہزاروں سالوں سے نظربد ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر جانی گئی ہے۔ حضور سرور کونین ﷺ نے بھی احادیث میں اس کی تصدیق فرمائی ہے۔ مشاہدات اور واقعات نے اس کو اور زیادہ مسلمہ قرار دیا ہے بلکہ ان لوگوں نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے جو نظر بد کوقدیم دور کی بات کہتے تھے حتیٰ کہ جدید سائنس کے شعبہ پیرا سائیکالوجی نے نظر بد پر تحقیق کی اور تحقیق کے بعد اس پر پہنچے ہیں کہ انسان کی آنکھوں سے پازیٹو اور نیگیٹو دونوں ریز نکلتی ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ جن کی آنکھوں سے صرف اور صرف نیگیٹو ریز نکلتی ہیں اور طاقتور وولٹیج کے ساتھ نکلتی ہیں جو کہ اپنے مدمقابل کو صرف دیکھنے سے ہی نقصان پہنچاتی ہیں حتیٰ کہ کتابوں میں یہاں تک لکھا ہے کہ نظربد انسان کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی تک پہنچا دیتی ہے۔ نظر بد کے عجیب واقعات: آج کچھ نظر بد کے واقعات آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔ میں اپنے روحانی سفر کے سلسلے میں سندھ نواب شاہ گیا ایک صاحب نے مجھے ایک واقعہ سنایا بتانے لگے کہ میرا بیٹا بہت خوبصورت گول مٹول تھا‘ ہربندہ اسے چومتا پیار کرتا چھوٹا سا تھا۔ بڑا ہوا تو میں نے اسے قرآن پاک حفظ کیلئے ڈالا جب اس نے تیرہ پارے ختم کیے بہت اچھا قرآن پڑھتا تھا اور بہت اچھا اس کا لہجہ تھا اور بہت خوبصورت انداز تھا۔ لیکن تیرہ پارے ختم کرنے کے بعد ایسی نظر لگی کہ اس کا سارا رنگ سیاہ ہوگیا جوکہ میں نے خود دیکھا کہ ابھی تک سیاہ ہے اور تیرہ پارے قرآن کے یکسر بھول گئے بلکہ ذہنی طور پر کمزور ہوگیا‘ وہ بچہ جو اس سے پہلے بہت صحت مند اور تندومند تھا‘ وہی ذہنی معذور اور کمزور ہوگیا۔ زندگی کے ہر میدان میں پیچھے رہ گیا‘ قرآن پاک نہ پڑھ سکا‘ اسے سکول میں ڈالا گیا لیکن سکول کی کتابوں میں بھی ناکام ہوگیا۔ حتیٰ کہ اس کو کسی مکینک کے پاس بٹھا دیا گیا اور وہ مکینک بن گیا ہے اور اپنی مزدوری کررہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ نہ اس کا وہ ذہن ہے جو پہلے تھا‘ نہ پہلے جیسی صورت ہے‘ بلکہ ایک سیاہ جلی ہوئی جلد کا مالک ایک جوان ہے جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نظربد کی کوئی حقیقت ہے۔ اس سے بھی اگلی بات ان کے والد کہنے لگے جب اس کو نظربد لگی تو یہ گونگا اور بہرہ ہوگیا نہ بول سکتا تھا‘ نہ سن سکتا تھا‘ اس کا بہت علاج کیا اور روحانی علاج کیا۔ آخر اللہ کے کرم سے گونگا بہرہ پن تو ختم ہوگیا لیکن اس کی جلد کی سیاہی ختم نہیں ہوسکی جو کہ اب تک ویسے ہی موجود ہے۔ پچھلے دنوںایک پہاڑی علاقے کے سفر میں تھا‘ نظر بد کی بات چلی تو ایک صاحب کہنے لگے میرا بیٹا پیدا ہوا‘ پہلا پہلا بیٹا تھا‘ بہت خوبصورت صحت مند تھا۔ میں شہر میں رہتا ہوں‘ ویسے میں دراصل گائوں کا ہوں۔ گائو ں لے کر گیا تو لوگوں نے مجھے کہا کہ ایک عورت ہے یہاں جو نظربد میں بہت زیادہ پرتاثیر ہے جس کو بھی دیکھتی ہے اس کا نقصان ہوجاتا ہے۔ میں نے بچانے کی بہت کوشش کی شوق ہی شوق میں اسے میں اپنے بازو پر اٹھا کر کندھے سے لگا کر باہر لے گیا تو اچانک وہ سامنے سے عورت آئی اور دیکھ کر کہنے لگی ہائے! اتنا خوبصورت تیرا بیٹا‘ تو نے دکھایا ہی نہیں‘ کب پیدا ہوا؟ میں نے بات کو آیا گیا کردیا‘ لیکن شام تک بچہ بیمار ہوگیا‘ اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا‘ ڈاکٹر نے کہا یہ کیس میری سمجھ سے بالا تر ہے‘ بڑے شہر کے ہسپتال میں گئے تو انہوں نے تشخیص کی کہ بچے کا دل پھٹ گیا ہے وجہ کچھ سمجھ میں نہیں آرہی اور چند ہی دنوں میں بچہ مرگیا۔ انہوں نے یہ واقعہ سنایا کہ ہمارے علاقے میں دو آدمی تھے جو نظر لگانے میں بہت مشہور تھے‘ گائوں میں آٹا پیسنے کی چکی تھی‘ ایک دفعہ دونوں نظر لگانے کے واقعات ایک دوسرے کو بتارہے تھے کہ میں نے اپنی نظر سے یہ کارنامہ سرانجام دیا‘ دوسرا کہنا لگا میں نے یہ کارنامہ انجام دیا۔ باتوں ہی باتوں میں ایک دوسرے سے مقابلہ لگ گیا کہ گائوں میں آٹا پیسنے والی چکی کا پتھر کون توڑتا ہے؟ اب دونوں چل دئیے۔ چکی چل رہی تھی‘ اور آٹا پیس رہی تھی‘ ایک شخص نے اپنی بھرپور نظر سے اسے دیکھا‘ باوجود کوشش کے وہ چکی یعنی پتھر کا پاٹ نہ توڑ سکا‘ اب دوسرے کی باری آئی‘ دوسرے نے اس چکی کو توڑا‘ یعنی نظر اور اتنی بھرپور نظر ڈالی کہ چکی ٹوٹ گئی اور وہ خوشی خوشی واپس آگیا۔ بعد میں بات کھلی تو پتہ چلا کہ یہ دو نظر ڈالنے والوں کے کمال اور کرشمے تھے۔ عورت کی عجیب پتھر پھاڑ نظر: ایک صاحب بتانے لگے ہمارے ہاں ایک عورت نظر کے معاملے میں بہت ہی زیادہ مشہور تھی‘ ایک دفعہ میں اپنے بچے کو گھوڑی پر سوار کروا کر لے جارہا تھا‘ دیکھا کہ وہ نظر لگانے والی عورت آرہی تھی‘ اس نے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا اور کہا واہ! گھوڑی بھی خوبصورت اور بچہ بھی خوبصورت۔ تھوڑی دیر کے بعد بچہ اور گھوڑی دونوں سخت بیمار ہوگئے۔ قارئین! یہ چند واقعات میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیے ہیں‘ جو کہ بالکل حقیقت ہیں‘ پڑھنے والوں کے پاس اس کے طرح کے بے شمار واقعات ہوں گے‘ جس سے نظر لگنے کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے‘ واقعی ہی نظر بالکل حقیقت ہے اور اس کا حق ہونا بالکل واضح ہے۔ اسلام نے مشاہدات و واقعات میں‘ تجربات میں‘ حتیٰ کہ سائنس نے بھی اس کی تصدیق کردی ہے۔ (www.ubqari.org) ٭…٭…٭