Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- خاص تبدیلی اہم نوٹ: پہلے ہرماہ مغرب کے بعد حلقہ کشف المحجوب اور مراقبہ ہوتا تھا مگر اب صبح کے وقت اسم اعظم کے دم کے فوراً بعد ہوا کرے گا تاکہ مسافر سہولت سے گھروں کو واپس جاسکیں ۔۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

دولت کی ہوس اور معاشرتی برائیاں (1970ء میں چودہ تولے سونا)


دولت کی ہوس اور معاشرتی برائیاں (1970ء میں چودہ تولے سونا) (حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی (پی ۔ ایچ ۔ ڈی : امریکہ) ایڈیٹر : عبقری ) ایک عمر رسیدہ خاتون پریشان حال‘ غربت آنکھوں سے ‘ لباس سے‘چال سے‘ حال سے‘ قال سے‘ ڈھال سے بالکل نمایاں تھی۔ کہنے لگی ہم بہن بھائی تھے‘ ایک ہی ماں کی گود میں کھیلے اور ایک ہی چھاتی سے دودھ پیا۔ والدین نے مجھے زیورات بہت دئیے‘ بھائی کسی مجبوری کی وجہ سے میرے پاس آیا کہ بہن مجھے اپنا تھوڑا سا زیور دے دو۔میں بیچ کر اپنا ایک انتہائی پریشان کن قرضہ ہے وہ ادا کردوں گا۔ تو میری بہن ہے۔۔۔تو میرے دکھی وقت میں کام نہیںآئے گی تو پھر کون کام آئے گا؟ اس کے آنسو‘ اس کی منت‘ التجا اور زاری نے میرے دل کو نرم کردیا۔ میں نے اس کو زیور دیا یہ ابتدا انیس سو ستر میں ہوئی۔ پھر وہ وقتاً فوقتاً اپنی مصیبتیں لے کر میرے پاس آتا اور زیور لیتا رہاحتیٰ کہ میرا سارا زیور لے گیا۔پھر اسی طرح پیسے بھی لینے شروع کیے اور ساٹھ ہزار دے دئیے۔ وہ ہر بار آتا اور مجھے لکھ کر دے جاتا کہ میں نے اتنے لیے ہیں اور میںواپس د وں گا۔ جب سارا زیور ختم ہوگیا میں نے واپسی کا مطالبہ کیا آج کل میںٹالتا رہا اچانک میرے اس بھائی کو فالج ہوگیا اس کی گویائی چلی گئی‘ نظروں کی چمک کم ہوگئی‘ سننا بند ہوگیا اور بائیں سائیڈ بالکل ختم ہوگئی۔ اب میں روز چکر لگاتی ہوں اپنی بھابی کے پاس جبکہ میری بھابی کو سارا علم ہے۔ بھائی جب بھی زیورات لینے آتا بھابی کو بھی ساتھ لاتا تھا۔ ان کے بیٹے کاروباری ہیں بہترین بزنس ہے‘ گھرمیں کھانیپینے کی چیزوں اور گاڑیوں کی ریل پیل ہے۔ میں جب بھی جاتی ہوں تو بھابی بْرا سا منہ بنا کر کہتی ہے کہ تو نے مجھے تو نہیں دیا تھا بھائی کو دیا تھا یہ پڑا ہے اس سے لے لو۔میں حیران ہوتی ہوں کہ آج ان کے پاس جتنا کاروبار ہے وہ میرے زیور اور پیسوں کی وجہ سے ہے۔ بھتیجے پوچھتے نہیں‘ گھر جائوں تو سلام کا جواب نہیںدیتے‘ میں بھائی کے ساتھ چپ کرکے بیٹھی رہتی ہوں‘ بھابی اگر فارغ بھی بیٹھی ہے تو میرے جاتے ہی مصروف ہوجاتی ہے۔ میں کیا کروں؟ وہ خاتون یہ درد بیان کرکے مسلسل رو رہی تھی اور میں حیران اس کی شکل دیکھ رہا تھا۔ کیاحلال و حرام کی تمیز ختم ہوگئی؟ کیا حلال و حرام کی تمیز ختم ہوگئی؟ اور یہ احساس نہ رہا کہ میں نے قیامت کے دن ایک ایک پیسے کا حساب دینا ہے؟ اس شخص نے مال اکٹھا کیااور اولاد کو دیا۔ اولاد مال کے مزے لوٹ رہی ہے اور وہ خود موت کے انتظار میں دن گن رہا ہے۔ کیا اولاد کے سامنے اس شخص کی قبر‘ اس کی آخرت‘ اس کا خاتمہ بالخیر ہونا نہیں ہے‘ کیا ہم قبرو آخرت سے اتنا دور چلے گئے ہیں؟ کیا قیامت کی جواب دہی ہمارے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی؟ آخر ہم اتنے بے حس کیوں ہوگئے ہیں‘ ہم اندر سے مردہ کیوں ہوگئے ہیں‘ اپنا نقصان کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں‘ یہ چیز اس وقت ہوتی ہے جب انسان صرف ختم خیرات یا غریب کی مدد یا پھر کبھی رسم و رواجی دین کا کوئی فنکشن منا لے اور اسی کو آخرت اور دین سمجھے۔ زندگی حلال سے چلتی ہے حرام سے نہیں: اللہ والو! یاد رکھنا دین و شریعت ہماری ضرورت ہے آپ نے بھی ایک تجربہ کیا ہوگااور میری بات پر آپ کو سارے تجربات یاد آجائیں گے اوریہ تجربہ میں نے بھی کیا وہ یہ کیا کہ حرام سے کبھی نسلیں نہ پلتی ہیں نہ پنپتی ہیں۔ حرام سے نسلوں میں سکون اور چین نہیں آتا‘ حرام سے زندگیاں بے چین اور بے قرار ہوجاتی ہیں‘ حرام سے قتل و غارت‘ بیماریاں‘ پریشانیاں‘ اکتاہٹ اور بے چینی جنم لیتی ہے۔ آزمانا ہے تو آزمالیں نہیں آزمانا تو جو آزما چکے ہیں ان کی زندگی کے تجربات دیکھ لیں۔ آپ کو واضح احساس ملے گا کہ زندگی حلال سے چلتی ہے حرام سے نہیں چلتی۔ لہٰذا جلدی سے اپنی زندگی میں جتنی بھی حرام اور مشکوکات ہیں ان سب سے ابھی سے پناہ لیں اللہ پاک مجھے اورآپ کو یہ شعور اور آگہی عطا فرمائے۔ سسکتی سلگتی خواہشات اور پیسہ۔۔۔!!! ایک نئی نویلی دلہن نے اپنے بیرون ملک مال و دولت کمانے والے شوہر کو خط لکھا کہ میرے سرتاج مال ودولت تو زندگی کی ہر عمر میں کمایا جاسکتا ہے‘ جوانی کے تو چند دن ہوتے ہیں اور بہت جلد جوانی ڈھل جاتی ہے۔ کیا میں اسی طرح سالہا سال آپ کا انتظار کرکے اپنے سر کے بالوں میں چاندی بھرلوں گی؟ اپنے ہاتھوں سے رنگین مہندی کو مٹادوں گی‘ اپنے پائوں کے پائل کی جھنکار جو صرف جوانی میں ہی اچھی لگتی ہے اتار کر اس تصور کے ساتھ رکھ دوں گی کہ اپنی بیٹی کو پہنائوں گی؟ اب میرے پہننے کی عمر ختم ہوگئی ہے۔ کیا میں جوانی کی حسرت اور امیدوں کو کسی طاق میں رکھ کر تالا لگا دوں؟ میں نے آنکھوں سے آپ کو چاہا ہے‘ آپ کے بول میرے کانوں میں رس گھولتے ہیں‘ آپ کی مسکراہٹ سے میری گھر کے سارے کاموں کی تھکن ختم ہوجاتی ہے۔ کیا یہ جذبات آپ کی تصویر دیکھ کر تسکین پالیں گے؟ نہیں!میرے سرتاج ہرگز نہیں‘ آپ واپس آجائیں‘ مجھے بھوک قبول ہے‘ پرانے کپڑے قبول ہیں‘ لیکن ان بچوں کواور اس جوانی کو آپ کا ساتھ چاہیے‘ ان جذبات کو آپ کا سہارا چاہیے۔ میں انتظار بہت کرچکی اب مجھے زیادہ انتظار نہ کروائیں۔‘‘ میرے اندر کا حکیم طارق چیختا ہے: قارئین! یہ الفاظ لکھتے ہوئے میں آپ آبدیدہ ہوں‘ جب بھی میرے پاس ایسی زندگیاں آتی ہیں میں تڑپ جاتا ہوں‘ میرے اندر کا حکیم طارق چیخ اٹھتا ہے‘ آخر کیوں؟ مال‘ دولت اور پیسے کیلئے وہ زندگی سسکتی اور سلگتی رہ جائے گی کیا مال دولت اور پیسہ سب کچھ ہوتا ہے؟ ایک خاتون اپنی انیس سالہ بیٹی کو ساتھ لیے کہہ رہی تھی اس کی منگنی ہے اور باپ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ میں تجھے منگنی کا تحفہ بھیجوں گا۔ بس یہ پیٹ میں تھی تو باپ اٹلی گیا‘ ابھی تک واپس نہیں آیا۔ سنا ہے اس نے وہاں کوئی شادی کررکھی ہے اس کی زندگی تو یوں گزر گئی میں اس کے انتظار ہی کی آہٹ کو سنتے سنتے بوڑھی ہوگئی۔ وہ بلک بلک کر رو رہی تھی پھر اس نے ایک کاغذ بیٹی سے علیحدہ مجھے پکڑایا جس کے اندر اس کے وہ گناہ تھے جس کا ذمہ دار صرف اس کا شوہر ہی ہوسکتا ہے۔ کیا اس کے ڈالر‘پونڈ‘یورو‘درہم‘ دینار‘ریال اس کو آخرت میں بیوی کی اس جواب دہی سے چھڑوا دیں گے؟؟؟کیا اس کو نجات مل جائے گی؟ ہرگز نہیں…! تمہارے ابو کیوں نہیں آتے؟ ایک خاتون کہنے لگی یہ بیٹا آٹھ سال کا ہوگیا ہے اور اس کی پیدائش سے چند ماہ پہلے اس کا باپ سائپرس یعنی یونان گیا پھر پلٹ کے نہ آیا۔ بیٹے نے نیٹ پر باپ کی تصویر دیکھی ہے باپ نے بھی نیٹ پر ہی بیٹے کی تصویر دیکھی ہے… حقیقت میںباپ نے بیٹے کو دیکھا نہ بیٹے نے باپ کو دیکھا۔ کہتا ہے جب میںسکول جاتا ہوں‘ بچے مجھ سے پوچھتے ہیں ہمارے ابو تو آتے ہیں‘ پرنسپل سے ملتے ہیں‘ ٹیچر سے ملتے ہیں‘ تیرے ابو تجھے کبھی چھوڑنے نہیں آئے۔ کیا تیریابو نہیں ہیں؟ میں اپنے کلاس فیلوز کو وضاحتیں دیتے دیتے تھک گیا ہوں مجھے اس کی کوئی وضاحت نہیں ملتی۔ میں کیا کروں؟ کہاں سے وضاحتیں لے آئوں میں تھک چکا ہوں اس کا کوئی وسیلہ میرے پاس نہیں ہے میں کس سے سوال کروں؟۔ کیا مرد‘ عورتوں کے گناہوں کے ذمہ دار ہیں؟ قارئین! معاشرے میں پھیلتا ہوا گناہ‘ اولاد کی بے راہ روی اس کے اسباب اور بھی ہیں لیکن ایک بڑا سبب باپ کی سرپرستی سے محروم اولاد اور شوہر کی سرپرستی سے محروم بیوی ہے۔ پھر وہ کیا کرے آخر اس کی زندگی کے ساتھ بھی تو جذبات جڑے ہوئے ہیں۔ کیا مرد‘ عورتوں کے گناہوں کے ذمہ دار ہیں؟؟؟ جی ہاں…! یہ حقیقت ہے یہ سچ ہے‘ مجرم مرد ہیں…! عورتیں نہیں۔ ٭…٭…٭