Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- خاص تبدیلی اہم نوٹ: پہلے ہرماہ مغرب کے بعد حلقہ کشف المحجوب اور مراقبہ ہوتا تھا مگر اب صبح کے وقت اسم اعظم کے دم کے فوراً بعد ہوا کرے گا تاکہ مسافر سہولت سے گھروں کو واپس جاسکیں ۔۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

سماجی تربیت کی ضرورت(ایک فرد ناقص نسلیں خراب)


سماجی تربیت کی ضرورت(ایک فرد ناقص نسلیں خراب) قارئین!میرے پاس ہر آنے والا کچھ مشاہدات و تجربات مجھے لوٹا جاتا ہے وہ منفی بھی ہوتی ہیں اور مثبت بھی‘ لیکن جس چیز نے مجھے بار بار چونکنے پر مجبور کیا وہ چیز یہ ہے کہ اولاد پر توجہ نہ دینا اور اس کی تربیت کیلئے ایک پل بھی وقت نہ نکالنا۔ اخلاق‘ ایمان اور ان کی خلوتیں اور جلوتیں جب والدین کی نظر میں نہیں رہتیں تو بچے بے لگام اور خاردار جھاڑیوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ پھر وہی بچے بڑے ہوکر ماں یا باپ کا روپ دھار لیتے ہیں اور پھر ماں باپ کی اخلاقی گراوٹ آئندہ آنے والی نسلوں کو برباد‘ بدتر اور بدترین اور بداخلاق بنادیتی ہے۔ اس سلسلے میں بے شمار ملاقاتیں‘ دستی رقعے اور خطوط موصول ہوتے ہیں ایک گھر کی کہانی پڑھیں جو کہ تحریری طور پر مجھ تک پہنچی:۔ عیاش اور شہوت پرست انسان سے شادی: ’’محترم حکیم صاحب! میری شادی کو دس سال ہوگئے ہیں‘ میری چار بیٹیاں ہیں‘ میرا شوہر والدین کا اکلوتا بیٹا ہے اور وہ نہایت عیاش اور شہوت پرست انسان ہے۔ ماں باپ نے حرام کمائی سے اس کی نشوونما کی اور اس کی تربیت پر ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔ شرم و حیاء نام کی کوئی چیز اس کے اندر نہیں‘ کام کے معاملے میں بہت سست اور کاہل ہے‘ شروع شروع میں ساس سسر نے میرا بوجھ اٹھایا اب چونکہ میری چار بیٹیاں ہیں اور بیٹا نہیں ہے تو ساس سسر نے بھی اپنا رخ بدل لیا۔ شوہر بس سویا رہتا ہے‘ فلمیں دیکھتا ہے یا پھر مجھے ذلیل کرتا ہے۔ بس اس کے علاوہ اس کا کوئی کام نہیں۔ اگر کام ملتا بھی ہے تو دل کرے تو کرلیتا ہے ورنہ اس کو کوئی پرواہ نہیں۔ نہ بچوں کی فکر اور نہ ان کے کھانے پینے کی‘ نہ ہی بیوی کی بلکہ اس نے مجھے جانور سے بھی بدتر رکھا ہوا ہے۔ اس کو میری کوئی پرواہ نہیں۔ اس کی بچیوں پر کیا اثر پڑتا ہوگا کہ وہ باپ کی حرکتوں کو دیکھ کر محسوس توکرتی ہیں اور بعض اوقات ہنستی ہیں اور پھر دوسروں کو بتاتی ہیں۔ اگر اس کو ناجائز باتوں سے منع کرو تووہ مجھے اور بچوں کو فحش گالیاں دیتا ہے‘ مارتا ہے اور باہر کی عورتوں کے پاس آنا جانا رکھتا ہے‘ اس کی خواہش ہے کہ میں بھی باہر کی عورتوں کی طرح اس کے ساتھ زندگی گزاروں لیکن یہ میرے بس میں نہیں۔ اپنی بیٹیوں کی وجہ سے پریشان: میری ایک نند ہے وہ بھی بالکل اپنے بھائی جیسی ہے‘ اس کی شادی کو 14 سال ہوگئے ہیں‘ اس کا بارہ سال کا بیٹا بھی اپنی گندی حرکتوں سے بازنہیں آتا‘ میں بہت پریشان ہوں بچیوں کا ساتھ ہے بہت زیادہ دکھی رہتی ہوں۔ وہ بھی تو انہی کا خون ہے‘ بڑی بیٹی آٹھ سال کی ہے‘ میں اس کی وجہ سے پریشان رہتی ہوں۔ اب بچوں میں بے حیائی‘ ہٹ دھرمی‘ جھگڑا ‘پڑھائی میں دل نہ لگنا اور ہر بات کا جواب دینا باپ کی طرح بڑھتا جارہا ہے اور یہ کیفیت سب بچوں میں ہے۔وہ نہیں دیکھتے کہ ماں ہے یا کوئی بڑا ‘جو منہ میں آتا ہے بول دیتی ہیں‘ آنکھیں نکالتی ہیں‘ میں بہت پریشان ہوں۔ میں پریشان ہوں! کیا کروں؟؟؟ مجھے صرف ایک راستہ نظر آتا ہے اپنے خاوند کے سدھرنے کا کہ وہ آپ کے جمعرات والے درس روحانیت و امن کی محفل میں آئے بس اس کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ میں اب تھک گئی ہوں اور زندگی سے بیزار ہوگئی ہوں۔ کیا اس معاشرے میں میرے لیے کوئی راستہ ہے رہنے کا۔۔۔؟ میں اپنی زندگی کی راہیں بدلنا چاہتی ہوں۔۔۔! میں چاہتی ہوں میرا شوہر اور اس کے دن رات بدل جائیں میں بہت پریشان ہوں‘ میں کیا کروں؟؟؟قارئین! یہ ایک خط بہت زیادہ کانٹ چھانٹ اور تہذیب کرنے کے بعد اور ایک انوکھی سچی کہانی جو میں آپ کی خدمت میں پیش کرچکا ہوں ایسی ایک نہیں ہزاروں‘ سچی کہانیاںہیں جن کی وجہ سے گھر گندے گٹر کی طرح ابل رہے ہیں۔ نئی تہذیب کے گندے انڈوں نے ہمیں سوائے دولت‘ دنیا‘ روپ‘ جوانی کے اور ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنے اور کچھ نہیں دیا۔ یقین جانیے! تربیت اور اخلاق صرف اور صرف ایمانی اور اسلامی زندگی کا حصہ ہے یہ چیزیں ہمیں اور کسی معاشرے میں ہرگز نہیں ملیں گی۔ آئیے! اسلامی زندگی میں اولاد کیلئے کچھ چھوڑ کر جائیں ورنہ تو نسلیں نہیںمعاشرہ برباد ہورہا ہے اور ہمارا گھر اور معاشریکا سارا نظام بگڑ گیا اور بگڑ رہا ہے۔۔۔! اے کاش۔۔۔! کوئی سوچنے والا ہو۔ ٭…٭…٭