Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- خاص تبدیلی اہم نوٹ: پہلے ہرماہ مغرب کے بعد حلقہ کشف المحجوب اور مراقبہ ہوتا تھا مگر اب صبح کے وقت اسم اعظم کے دم کے فوراً بعد ہوا کرے گا تاکہ مسافر سہولت سے گھروں کو واپس جاسکیں ۔۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

شفائے حیرت،بفشی قہوہ،ناک شفاء

شفاء حیرت سیرپ 250ml

 ہر قسم کی کھانسی، الرجی، دمہ، سانس کاپھولنا،مسلسل ریشہ‘ بلغم، موجودہ دور کی آلودہ زندگی، آلودہ فضا اور آلودہ غذائیں ان امراض کی وجہ ہیں۔ سانس کا دوسرا نام زندگی ہے اور پھیپھڑے (Lungs)سانس کے نہایت اہم اور مخصوص آلات ہیں۔پھیپھڑوںکی ذرا سی خرابیٍ‘سانس کے سارے نظام کودرہم برہم کرڈالتی ہے۔ پھیپھڑے کھانسی سے متاثر ہونا شروع ہوجاتے ہیں کیونکہ کھانسی نئی ہو یا پرانی جان لیوا ہوتی ہے۔کھانسی کاجب دورہ پڑتاہے توکھانستے کھانستے مریض کا سانس اکھڑ جاتا ہے مریض نے اگر کچھ کھایا ہوا ہو تو قے کے ذریعے نکل جاتا ہے۔ اگر مریض لیٹا ہوا ہو تو اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے چہرہ سرخ ہوجاتا ہے آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ مرض بڑھتے بڑھتے دمہ یا ٹی بی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ’’شفاء حیرت‘‘ کھانسی کی ہر قسم مثلاً خشک کھانسی ،دورے والی کھانسی، کالی کھانسی،بلغمی کھانسی، موسم سرما و گرما کی کھانسی، زبان اور حلق میں خشکی، سوجن اور کانٹے چبھنا‘ گلے کی خراش، گلے کا بیٹھ جانا تمام امراض کیلئے اکسیر ہے۔’’شفاء حیرت‘‘ماہنامہ عبقری کا بااعتماد سیرپ ہے۔ بعض ایسے علاقے ہوتے ہیں جہاں پولن الرجی کی وجہ سے ہر شخص الرجی کا شکار ہوجاتا ہے۔ کھانسی ان کا مقدر بن جاتی ہے مجھے ایسے کئی مریض ملے حتیٰ کہ ایک مریض تقریباً تین سو بار چھینکتا تھا جسم اور دماغ خالی ہو گیا تھا وہ کسی کام کا بھی نہیں رہا تھا، اس پر مایوسی چھا گئی تھی ۔ اسے کسی نے’’شفاء حیرت‘‘استعمال کرنے کا مشورہ دیا چونکہ وہ ادویات سے بددل لاچار اور مایوس ہوچکاتھااس نے کسی کے اصرار پر’’شفاء حیرت‘‘  کی چند خوراکیںاستعمال کیں۔ اسے امید کی کرنیں نظر آئیں تو اس نے مزید ’’شفاء حیرت‘‘منگواکراستعمال کیا۔ روز بروز ایسا فائدہ ہوا کہ اس کی آس و امید کے دن نکل آئے۔ اندھیری رات ختم ہو گئی۔ وہ کیا بلکہ پورا علاقہ’’شفاء حیرت‘‘کا فریفتہ ہو گیا۔ کالج کے ایک ہاسٹل میں چند طلباء کو یہ مرض تھا وہ  رات کو نہ خود سو سکتے تھے اور نہ کسی دوسرے کو سونے دیتے تھے ساری رات اور سارا دن کھانستے رہتے اور بے چین رہتے تھے۔ کسی ذرائع سے انہیں’’شفاء حیرت‘‘ ملا۔ لیبل پر درج طریقہ کے مطابق انہوں نے’’شفاء حیرت‘‘ استعمال کیا۔ چند دنوں میں سارے لڑکے صحت یاب ہو گئے کیونکہ یہ ’’شفاء حیرت‘‘ میں استعمال شدہ قیمتی جڑی بوٹیوں کا کمال ہے۔’’شفاء حیرت‘‘۔

پھیپھڑوں کی کمزوری، پھیپھڑوں کے زخم، نظام تنفس کی تمام خرابیوں، سانس کی خشکی، ہوائی نالیوں کی خشکی اور خشونت، نزلہ و زکام، تپ دق اور بخار کو دور کرنے کیلئے بہترین ٹانک ہے۔ ’’شفاء حیرت‘‘ پھیپھڑوںکوطاقت دے کر پھیپھڑوں کے زخم بھرتا ہے۔ نظام تنفس کے جملہ امراض کا شافی علاج ہے۔ دوران کلینک ایک بچہ لایا گیا جس کے بارے میں فیصلہ ہو چکا تھا کہ اسے ٹی بی ہو گئی ہے وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا تھا۔ رنگ سیاہ اور جسم کمزور، رات بھر بچہ کھانستا اور تھوڑا سا بلغم نکلتا، مایوس ہو کر آٹھ ماہ ٹی بی کا کورس کرایا گیا لیکن فائدہ نہ ہوا۔ بچہ کے والدین سے گزارش کی کہ بچے کو کچھ عرصہ’’شفاء حیرت‘‘اعتماداوریقین کے ساتھ  پلائیں، اس بچے کو’’شفاء حیرت‘‘ ایک چمچ آدھے کپ گرم پانی میں گھول کر دن میں 4بار چند ہفتے استعمال کرایا گیا۔ چند ہفتے کے استعمال سے ہی بچہ تندرست ہو گیا۔پاکستان میں موسمی تغیرات اور محل وقوع کی بنا پر کھانسی کا مرض عام ہے موسم کے بدلتے ہی امراض سینہ اور کھانسی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ مریض کے پھیپھڑوں کے اندر ہوا کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں دل کی تکلیف اور دمہ کی شکایت ہو جاتی ہے، سانس کی نالی میں سوزش، چھاتی میں دم گھٹنے یا تشنجی کیفیت اس وقت شروع ہوتی ہے جب ہوا میں معلق گردوغبار پھپھوندی پودوں کے ریشے پرندوں کے پراور اسی طرح کی سینکڑوں چیزیں سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو جاتی ہیں اور الرجی والے دمہ کا باعث بنتی ہیں جس سے دمہ کا مریض کھانس کھانس کر نڈھال ہو جاتا ہے اور دمہ کے دورے پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ بلغم کا اخراج آسانی سے نہیں ہوتا گلے میں ریشہ، دم کشی کے دورے پڑتے ہیں۔’’شفاء حیرت‘‘ایسے سینکڑوں مریضوں کیلئے مفید اور اکسیر ثابت ہوا ہے ایسے کئی مریض اللہ نے ٹھیک کر دیئے ہیں۔
 ’’شفاء حیرت‘‘چھاتی میں موجود بلغم کو ختم کرتا ہے۔ اس کے استعمال سے دورے والا دمہ ختم ہوجاتا ہے۔ بیماری کے جراثیم ختم ہوتے ہیں، گلے کی سوزش ریشہ اور دیگر علامات کو جڑ سے ختم کرتا ہے۔’’شفاء حیرت‘‘ میں ایسے اجزاء شامل ہیں جو جراثیمی کارکردگی کو بے اثر بناتے ہیں۔ ایک مریض آیا اس کی حالت یہ تھی کہ وہ چند قدم بھی نہیں اٹھاسکتاتھا،قدم اٹھاتے ہی  اس کاسانس پھول جاتا تھا‘ نہ جانے کتنی دوائیں استعمال کر چکا تھا حتیٰ کہ انہیلر (Inhaler) بھی استعمال ہوتا تھا اب تو وہ بھی کام کرنا چھوڑگیاتھا۔ مریض ادویات سے الرجک ہو گیا تھا اسے ’’شفاء حیرت‘‘ کے ساتھ بنفشی قہوہ استعمال کرایا، تھوڑے عرصہ میں ہی تندرست ہوگیا۔ایک جاننے والے  عمر رسیدہ ساتھی مستقل گلے کے مریض تھے آواز بیٹھ جاتی تھی۔ خاص طور پر اگر کوئی گھی والی چیز کھا لیتے تو آواز نکلنا مشکل ہو جاتی۔’’شفاء حیرت‘‘استعمال کرنے سے آواز بالکل صاف ہو گئی اور پرانا مرض بالکل ٹھیک ہو گیا۔کالی کھانسی کے مریضوں کیلئے’’شفاء حیرت‘‘نہایت مجرب فارمولہ ہے۔ کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں۔ ہر قسم کی اسٹیرائیڈ اور کیمیکل سے پاک ہے بچوں، بوڑھوں، جوانوں و خواتین سب کیلئے یکساں مفید ہے۔

 

 

بنفشی قہوہ

 یوں تو نزلہ زکام پوری دنیا کا عالمگیر مرض ہے لیکن پاکستان میں خصوصاً یہ مرض عام ہے اس مرض کیلئے آزمود ہ یہ قہوہ اپنے افعال کے لحاظ سے بہت مؤثر ثابت ہوا ہے۔ نزلہ، الرجی، کھانسی، بلغم، ناک بہنا، ناک بند ہونا اور ناک ابھری ہوئی رہتی ہے۔ ساتھ ساتھ ناک کی ہڈی یا تو ٹیڑھی ہو جاتی ہے یا گوشت بڑھ جاتا ہے۔ ناک کے اوپر پیشانی پر بوجھ اور دباؤ رہتا ہے۔ چھینکیں بھی آتی ہیں۔ سارے جسم میں درد اور ٹوٹن کا احساس رہتا ہے۔ کبھی ناک سے بدبو آتی ہے اور بدبودار مادہ کا اخراج بھی ہوتا ہے، بعض اوقات موسم کی تبدیلی کے ساتھ مرض میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پھر انسان دائمی نزلہ اور زکام کا مریض بن جاتا ہے۔ اسی مرض کی بناء پر دوسرے امراض جنم لیتے ہیں ۔ جیسے ناک کی ہڈی کا بڑھ جانا، گلے کی خراش، نسیان، منہ میں چھالے پڑنا، آنتوں کے امراض، جسم کا کمزور اور لاغر ہونا، نظر کی کمزوری، سستی اور کاہلی پیدا ہونا، جسم ٹوٹنا ، خون کا نہ بننا، خناق، ٹی بی ، تنفس کی تنگی، بے خوابی، بالوں کا قبل از وقت سفید ہونا، چہرے کی شادابی کا ختم ہونا یہ سب امراض نزلہ و زکام کی بدولت ہی جسم پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بنفشی قہوہ ہی ان تمام امراض کا آزمودہ شافی علاج ہے۔ ایک معالج نے بنفشی قہوہ کے بارے میں اپنے تجربات بیان کئے کہ اب تک بے شمار ایسے مریضوں کو استعمال کرایا جو ہر وقت مسلسل چھینکوں میں مبتلا رہتے تھے۔ چھینکوں کی بوچھاڑ جسم کو نڈھال اور کھوکھلا کر دیتی تھی اور اینٹی بایو ٹک کھا کھا کر تھکے ہارے میرے پاس پہنچے میں نے جب بھی ایسے مریضوں کو یہ قہوہ استعمال کرایا سو فیصد فائدہ ہوا۔ ایک مریض کی آنکھوں سے مسلسل پانی بہتا تھا جس کی وجہ سے آنکھیں سرخ ہو جاتیں ۔ ڈراپر، گولیاں، ویکسین استعمال کرتے کرتے تھک گئے۔ ایک ریڈیو مکینک جو طب کا شوق رکھتے ہیں نے لکھا ہے کہ بے خوابی، ٹینشن اور ڈپریشن کے مریضوں پر خوب آزمایا۔ ایسے مریض جو بے شمار گولیاں کھاتے ہیں اور سکون کی نیند نہیں آتی یا اینٹی ڈپریشن گولیاں کھا کھا کر تھک گئے تھے کچھ عرصہ کے استعمال سے بالکل تندرست ہو گئے اور پر سکون زندگی ملی۔ وہ لوگ جنہیں الرجی یعنی پورا جسم سوج جاتا ہو، دھپڑ پڑ جاتے ہوں، خارش، جلن سے برا حال ہوتا ہو ایسے مریضوں کیلئے بنفشی قہوہ لاجواب اور بے مثال ہے۔ نزلہ کی ایک قسم جس کو "شقیقہ" کہتے ہیں اس مرض میں آدھے سر میں درد ہوتا ہے ۔ درد صبح سورج طلوع ہونے سے شروع ہوتا ہے او رآہستہ آہستہ بڑھتا جاتا ہے۔ مریض تڑپتا ہے ، اندھیرے میں ہی کچھ سکون پاتا ہے۔ بارہ بجے کے بعد جب سورج ڈھلنا شروع ہوتا ہے تو دردمیں تخفیف ہونے لگتی ہے۔ جب سورج غروب ہوتا ہے تو مریض بالکل ٹھیک ہوتا ہے۔ یہ بہت خطرناک قسم کا درد ہوتا ہے۔ مریض کچھ کام نہیں کر سکتا۔ ایسے بے شمار مریضوں کو بنفشی قہوہ کے استعمال نے بالکل تندرست کر دیا۔ ہر موسم میں ہر عمر میں استعمال کر سکتے ہیں، گھر میں ہر وقت رکھنے کی چیز ہے۔ بد ذائقہ نہیں خوشگوار ذائقہ ہے۔ شفاء حیرت کا استعمال اس کے ساتھ سونے پر سہاگہ ہے۔

 

 

ناک شفاء

 

 ناک شفاء

دائمی نزلہ‘ الرجی‘ چھینکیں‘ ناک کی ہڈی کا بڑھ جانا کیلئے ناک میں ڈالنے والے قطرے
 

الرجی والا نزلہ عام ہوگیا ہے‘ ہر شخص کو کسی نہ کسی چیز سے الرجی ہوجاتی ہے کسی کو مٹی سے‘ کسی کو دھوئیں‘ کسی کو کسی دوا سے‘ اکثر ایسے افراد جو ایئرکنڈیشنر‘ دفاتر اور گاڑیوں کے عادی ہوتے ہیں اس مرض سے فوراً متاثر ہوجاتے ہیں۔ مختصراً الرجی والے مریض کو ناک میں مہک گئی اور ادھر چھینکوں کی بوچھاڑ شروع ہوگئی اکثر گھروںموسم کی تبدیلی کے وقت ہر فرد الرجی نزلہ زکام سے متاثر ہوتا ہے۔ بچے‘ بوڑھے‘ جوان‘ عورت‘ مرد کوئی بھی اس مرض سے محفوظ نہیں رہتا۔ ایسے افراد کی قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے‘ ایسے مریض ہر وقت ٹشو پیپر پکڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ان امراض کیلئے ناک شفاء ناک میں ڈالنے والے ایسے قطرے تیار کیے ہیں جو ان تمام امراض کا جڑ سے خاتمہ کرتے ہیں۔ الرجی والی حس کو ختم کردیتے ہیں اور الرجی سے پیدا شدہ تمام بیماریوں میں مثلاً دائمی نزلہ‘ناک بند رہنا‘ ناک ابھری ہوئی رہنا‘ ناک کی ہڈی کا گوشت بڑھ جانا یا ٹیڑھا ہوجانا‘ ناک کے اوپر پشانی پر بوجھ رہنا‘ حرارت عزیزی بڑھ جانا‘ سارے جسم میں درد اور ٹوٹن کا احساس‘ ناک سے پتلی خراش دار رطوبت کا بہنا‘ ناک کی جھلی کی سوزش‘ اس کا سکڑ جانا یا پھول جانا‘ سونگھنے کی حس جاتے رہنا‘ ناک سے بدبو آنا‘ بے تحاشہ چھینکیں‘ آنکھوں اور ناک سے بے تحاشہ پانی‘ بھوک ختم‘ منہ اور آنکھیں سرخ‘ سردرد اور بخار ہوجانا ان تمام امراض کیلئے ناک شفاء کا کچھ عرصہ استعمال ہمیشہ کیلئے نجات کا سبب بنتا ہے۔ ایسے مریض جو موسم کے تبدیل ہوتے ہی اس مرض میں مبتلا ہوجاتے تھے۔ ان کو کچھ عرصہ ناک شفاء استعمال کرنے کی ترغیب دی تو ان کیلئے ہر موسم خوشگوار بنا۔ کئی لوگوں نے بتایا کہ نزلہ کی وجہ سے دماغ خشک ہوگیا تھا کوئی چیز یاد نہیں رہتی تھی۔ ہر وقت پریشانی رہتی تھی۔ نیند بالکل اڑ گئی تھی۔ ناک شفاء کے استعمال نے دماغ روشن اور صحت مند کردیا ایسے نوجوان مرد یا خواتین جن کے نزلہ وزکام کی وجہ سے وقت سے پہلے بال سفید ہوگئے تھے عمر سے زیادہ نظر آتے تھے کئی قسم کے شیمپو اور تیل لگائے کوئی آفاقہ نہ ہوا روغن گاؤ گوش کے استعمال نے دائمی نزلہ‘ کیرا الرجی سے نجات دلا دی اور نئی خوبصورتی کی کرن پیدا کردی۔ہر قسم کے سائیڈ ایفیکٹ سے پاک ہے۔
ترکیب استعمال: گاؤگوش کے ڈراپر کو گرم پانی میں تھوڑی دی ررکھیں جب لیکوڈ شکل اختیار کرلے تو نیم گرم دو دو قطرے ناک کے دونوں نتھنوں میں ڈال کر سانس اوپر کھینچیں۔ دن میں دو سے پانچ بار استعمال کریں۔