Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اعلان!!! نئی پیکنگ نیا نام فارمولہ،تاثیر اور شفاءیابی وہی پرانی۔ -- اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- تسبیح خانہ لاہور میں ہر ماہ بعد نماز فجر اسم اعظم کا دم اور آٹھ روحانی پیکیج، حلقہ کشف المحجوب، خدمت والو ں کا مذاکرہ، مراقبہ اور شفائیہ دُعا ہوتی ہے۔ روح اور روحانیت میں کمال پانے والے ضرور شامل ہوں۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

مفت علاج کیلئے غریب بنا اور غریب ہوگیا

ماہنامہ عبقری - دسمبر 2020ء

یہ دنیا مکافات عمل کی جگہ ہے ۔ بعض اوقات شکرانے کے دو بول انسان کے رزق میں اضافہ کر دیتے ہیں اور ناشکری کے دو بول رزق کو کم کردیتے ہیں۔ انسان کو ہر حال میں شکر ہی ادا کرنا چاہیے۔ ایک صاحب بہت مالدار تھے اللہ کا دیا ہوا سب کچھ تھا۔ آج سے تقریباً 30سال پہلے کی بات ہے اس وقت ان صاحب کی آمدنی 30,000روپے ماہانہ تھی‘ اس وقت کے حساب سے یہ اچھی خاصی رقم تھی۔ اتنی آمدنی والے امراء میں شمار ہوتے تھے اس وقت ’شاندار گھریلو بجٹ‘ڈیڑھ سے دوہزار روپے تھا اور باقی ساری بچت ہوتی تھی۔ وہ صاحب بڑے فخریہ انداز میں اپنی امارت کے قصے سنایا کرتے تھے کہ میں نے یہ کردیا، میں نے اتنا کمالیا، گھر میں ہر چیز وافر تھی‘ اولاد جوان تھی اور اگر کمی تھی تو شکر کی تھی بلکہ اور زیادہ کمانے کی ہوس تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ اللہ دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی آزماتا ہے۔
وہ صاحب ہر حال میں آسودہ اور خوشحال زندگی گزار رہے تھے اور اکثر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ ایک دن اچانک پیٹ میں درد اٹھا۔ مقامی ڈاکٹروں کو دیکھایا کسی کو بھی بیماری سمجھ نہ آئی تھی۔ درد کی گولیاں دیں انجکشن لگائے مگر کوئی افاقہ نہ ہوا۔ درد بڑھتا ہی رہا۔ دوست احباب نے مشورہ دیا کہ کراچی چیک اپ کرائیں۔ وہ صاحب کراچی کے مہنگے ترین ہسپتال میں پہنچ گئے جہاں امیروں کا علاج مہنگے داموںمیں ہوتاہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ وہ غریب ہے اور علاج نہیں کراسکتا تو ہسپتال والے ایک فارم پُر کرکے دینے پر مفت علاج کرتے تھے ۔ ان صاحب سے پوچھا گیا کہ آپ کس طرح علاج کرائیں گے؟ حالانکہ وہ صاحب استطاعت رکھتے تھے اور اپنے پیسوں سے علاج کراسکتے تھے مگر ان صاحب نے کہا وہ غریب آدمی ہے اپنے پیسوں سے علاج نہیں کراسکتا۔ ہسپتال انتظامیہ نے ایک فارم دیا کہ پُر کرکے دستخط کریں۔ اس فارم میں لکھا تھا کہ ’’میں حلفاً بیان کرتا ہوں کہ میں غریب آدمی ہوں اور میری ماہانہ آمدنی 3000روپے ہے اور میں زکوٰۃ کا مستحق ہوں۔ میرا علاج مفت کیا جائے‘‘ ان صاحب نے فارم پُر کرکے دستخط کرکے دے دیا۔ ہسپتال انتظامیہ نے مفت علاج شروع کردیا تمام ادویات، ٹیسٹ وغیرہ مفت ہونے لگے اور تین وقت کھانا بھی دیتے تھے۔ تقریباً تیس دن ہسپتال میں زیر علاج رہے اللہ پاک نے صحت دی وہ تندرست ہوکر گھر آگئے۔ گھر آکر بڑ ےفخریہ انداز میں بتایا کہ ہسپتال میں میرا مفت علاج ہوا ہے‘ سارے حیران ہوتے تھے کہ اتنے مہنگے ہسپتال میں مفت علاج؟ ان کے ملنے والے ایک بزرگ آئے انہوں نے ساری تفصیل پوچھی تو ان صاحب نے بتایا کہ صرف ایک فارم پُر کرکے دیا اور لکھ دیا کہ میری ماہانہ آمدنی تین ہزار روپے ہیں اور میں زکوٰۃ کا مستحق ہوں‘‘۔ وہ بزرگ جہاندیدہ آدمی تھے سخت ناراض ہوئے کہ تم نے یہ حلفاً کیوں کہا ہے تم نے اللہ سے جھوٹ بولا ہے۔ یہ اللہ کی ناشکری ہے ایک تو زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے دوسرا تیری آمدنی 30,000روپے ہے یہ تو نے غلط کیا ہے وہ صاحب ان بزرگ کا مذاق اڑانے لگے کہ پرانے وقتوں کے آدمی ایسے ہوتے ہیں بات آئی گئی ہوگئی۔
علاج کے تقریباً سات آٹھ سال بعد ملاقات ہوئی پریشان حال‘ چہرے سے ویرانی ٹپک رہی تھی اکڑ سب ختم ہوگئی تھی۔ پوچھا خیر تو ہے؟ وہ صاحب رونے لگے اور کہا کہ میں نے گھاٹے کا سودا کیا ہے میں نے اللہ سے جھوٹ بولا‘ اللہ نے ویسے کردیا ہے۔ میں کماتا ہو ں، میرا بیٹا کماتا ہے اسکے باوجود اچانک کبھی کوئی بیماری آجاتی ہے۔ کبھی کوئی پریشانی آجاتی ہے۔ اچانک کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ میں بہت زور لگاتا ہوں۔ وہی ہاتھ پائوں ہیں پہلے جتنی محنت کرتا ہوں مگر ماہانہ آمدنی تین ہزار روپے سے زیادہ نہیں ہوتی۔ جس طرح میں نے فارم میں لکھا تھا کہ میری ماہانہ آمدنی تین ہزار ہے واقعی میری آمدنی تین ہزار ہوگئی ہے میں لاکھ کوشش کرتا ہوں کہ آمدنی بڑھ جائے مگر آمدنی نہیں بڑھتی۔ مہنگائی کا دور ہے‘ تین ہزار روپے میں گزارہ نہیں ہوتا۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا رہتا ہوں۔ پتہ نہیں میں نے کس مستحق کا حق مار کر اپنا مفت علاج کرایا تھا۔ اللہ نے اتنی بڑی سزا دی ہے۔ کاش! میں اسی وقت یہ بات حلفاً نہ کہتا۔
یہ سچ ہے کہ جو کچھ بھی انسان کے پاس ہے وہ سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اللہ نے زیادہ دیا ہے تو اسی کا شکر ادا کرنا چاہیے اگر دنیاوی لحاظ سے کچھ کم دیا ہے تو اس پر صبر کرنا چاہیے۔ ہر حال میں ہر وقت اسی مالک کا شکر گزار ہونا چاہیے اور اچھے بول بولنے چاہئیں۔ یہ اٹل حقیقت ہے کہ جس کو اللہ پاک نے اپنے فضل سے وسیع رزق دیا ہے اور اس نے شکر ادا نہیں کیا تو اس کے زرق میں کمی ہونا شروع ہو جاتی ہے حتیٰ کہ رزق تنگ ہو جاتا ہے۔

 

Ubqari Magazine Rated 4.0 / 5 based on 877 reviews.